Featured
- Get link
- X
- Other Apps
چونیاں میں وائلڈ لائف کی بڑی کارروائی، 66 نایاب طوطے برآمد
چونیاں میں آج ایک اہم کارروائی ہوئی۔ وائلڈ رینجر فورس اور محکمہ وائلڈ لائف نے پرانی غلہ منڈی کے علاقے میں دوپہر ایک بجے مشترکہ آپریشن کیا۔ کارروائی کا مقصد غیر قانونی طور پر رکھے گئے جنگلی اور قیمتی پرندوں کو بازیاب کرنا تھا۔ ٹیم نے چھاپے کے دوران 66 نایاب پرندے محفوظ حالت میں نکال لیے۔ یہ پرندے ایک خفیہ اطلاع کی بنیاد پر پکڑے گئے، جس کے مطابق علاقے میں کچھ افراد ان پرندوں کو غیر قانونی طریقے سے خرید اور فروخت کر رہے تھے۔
کارروائی کے دوران رینجرز نے 40 راں طوطے، 20 کاٹھے اور 6 قیمتی مکاؤ طوطے برآمد کیے۔ یہ تینوں اقسام غیر قانونی تجارت میں زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔ یہ پرندے عام طور پر جنگلوں سے پکڑے جاتے ہیں، پھر شہروں میں بیچے جاتے ہیں۔ ان پرندوں کی قیمت مارکیٹ میں زیادہ ہوتی ہے، اسی لیے اسمگلر انہیں نشانہ بناتے ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر وائلڈ لائف نے بتایا کہ یہ کارروائی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات کے مطابق ہوئی۔ حکومت نے واضح پالیسی دی ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کا مقصد صرف پرندوں کو بازیاب کرنا نہیں تھا، بلکہ اس کاروبار میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ بنانا بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ وائلڈ لائف نے حالیہ مہینوں میں غیر قانونی تجارت کے کئی کیس پکڑے ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص نایاب پرندوں کو پکڑتا یا خریدتا ہے، تو وہ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ قانون کے مطابق ایسے افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوتا ہے اور سزا بھی ہو سکتی ہے۔
رینجر فورس نے بتایا کہ چھاپے سے کچھ دیر پہلے ان کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ پرانی غلہ منڈی میں کچھ لوگ مکاؤ اور دیگر قیمتی پرندوں کی خرید فروخت کر رہے ہیں۔ ٹیم نے فوری طور پر کارروائی کی تیاری کی۔ علاقے کا سروے کیا گیا، پھر ایک منصوبہ بندی کے تحت چھاپہ مارا گیا۔ اہلکاروں نے پوری کارروائی میں احتیاط اختیار کی، تاکہ پرندوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ چھاپے کے دوران پرندے پنجروں میں بند ملے تھے۔ کچھ پرندے کمزور حالت میں تھے۔ اہلکاروں نے انہیں احتیاط سے نکالا اور حفاظتی ڈبوں میں منتقل کیا۔
تمام بازیاب کیے گئے پرندے فوری طور پر چھانگا مانگا وائلڈ لائف پارک منتقل کیے گئے۔ یہاں ان کی طبی جانچ جاری ہے۔ وائلڈ لائف کے ماہرین نے بتایا کہ کچھ پرندوں کو کمزوری اور ذہنی دباؤ کی علامات ہیں۔ انہیں آرام اور خوراک کی ضرورت ہے۔ پارک کے ڈاکٹروں نے علاج شروع کر دیا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ جب پرندے مکمل طور پر صحت مند ہو جائیں گے، پھر انہیں قدرتی ماحول میں واپس چھوڑ دیا جائے گا۔ اس عمل میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا کہ عدالت میں مقدمہ چلنے کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا۔ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے مطابق ایسی تجارت جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ غیر قانونی شکار اور پرندوں کی پکڑ دھکڑ ماحول کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے پرندے جنگل سے غائب ہونے لگیں تو پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے حکومت سخت کارروائیاں کر رہی ہے۔
انہوں نے شہریوں کو بھی ہدایت دی کہ اگر کسی کو نایاب پرندوں کی غیر قانونی فروخت یا خریداری کے بارے میں معلومات ملے، تو وہ فوری طور پر محکمہ کو اطلاع دے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی مدد کے بغیر یہ مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص شوق کے لیے پرندے رکھنا چاہتا ہے، تو اسے قانون کے مطابق اجازت نامہ لینا ہوتا ہے۔ بغیر اجازت ایسے پرندے رکھنا جرم ہے۔
مقامی لوگوں نے اس کارروائی کو سراہا۔ کچھ شہریوں نے بتایا کہ علاقے میں پرندوں کی خرید اور فروخت کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا۔ کئی لوگ چوری چھپے نایاب پرندے خریدتے تھے۔ اس سے جنگلی حیات کو نقصان پہنچ رہا تھا۔ شہریوں نے کہا کہ حکومت نے بروقت کارروائی کی اور یہ کوشش علاقے کے لیے اچھی ثابت ہوگی۔
ماہرین نے بھی کہا کہ مکاؤ اور راں طوطوں کی غیر قانونی تجارت پاکستان میں ایک مسئلہ بن رہی تھی۔ ان پرندوں کو عام طور پر اسمگل کر کے ملک سے باہر بھی بھیجا جاتا ہے۔ ایسے پرندے اگر قدرتی ماحول سے نکل جائیں تو ان کی نسل کمزور ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پرندوں کو صحیح ماحول ملے تو یہ صحت مند رہتے ہیں، لیکن قید میں ان کی عمر کم ہو جاتی ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف نے کہا کہ آئندہ بھی اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کر رہی ہے۔ محکمہ نے لاہور، قصور، شیخوپورہ اور دیگر شہروں میں بھی چھاپوں کا پلان تیار کیا ہے۔
چونیاں میں ہونے والی آج کی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ پرندوں کی واپسی سے جنگلی ماحول کو فائدہ ہوگا۔ یہ قدم ایک مثبت آغاز ہے اور اگر یہی تسلسل جاری رہا تو غیر قانونی تجارت میں کمی آئے گی۔
Comments
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Nice
ReplyDeleteKasi achi jaga azad kar do
ReplyDeleteسہی بات ہے
Delete