بیلاروس پاکستانیوں کے لیے نئی نوکریوں کے مواقع
پاکستان اور بیلاروس کے درمیان روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ حکومت پاکستان بیلاروس کے ساتھ ایک ایسا منصوبہ تیار کر رہی ہے جس کے تحت ہزاروں پاکستانیوں کو مختلف شعبوں میں ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھانا ہے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ کر کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لانا بھی ہے۔
بیلاروس ایک صنعتی ملک ہے جہاں زراعت، انجینئرنگ، میڈیکل، اور تعمیرات کے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ وہاں ہنر مند افراد کی بڑی ضرورت ہے۔ پاکستان سے بھیجے جانے والے اسپیشلسٹس ان شعبوں میں اپنی مہارت کے مطابق خدمات انجام دیں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں انجینئرز، ٹیکنیشنز، ہیلتھ ورکرز، زرعی ماہرین، اور مشین آپریٹرز کو ترجیح دی جائے گی۔
پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC) اس منصوبے میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ ادارے کے مطابق، بیلاروس کی کمپنیوں نے پاکستان سے تربیت یافتہ افراد لینے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے کی تیاری آخری مرحلے میں ہے۔ معاہدے کے بعد رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جائے گا تاکہ دلچسپی رکھنے والے افراد آسانی سے درخواست دے سکیں۔
بیلاروس میں تنخواہیں مقامی معیار کے مطابق اچھی ہیں۔ وہاں ایک ماہر کاریگر یا انجینئر کو اوسطاً 700 سے 1200 یورو ماہانہ تک ادائیگی کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ رہائش اور سفری سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ پاکستانی مزدوروں کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہے کیونکہ یورپی معیار کی ورکنگ کنڈیشنز کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی بھی بہتر ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف روزگار تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں تعلیم اور ٹیکنیکل ٹریننگ کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے خصوصی پروگرامز متعارف کرائے جائیں گے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر سکیں۔
وزارتِ اوورسیز پاکستانیز نے واضح کیا ہے کہ تمام بھرتیاں شفاف طریقے سے ہوں گی۔ کسی بھی امیدوار سے فیس یا رشوت طلب کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ صرف سرکاری ویب سائٹس اور منظور شدہ ایجنسیوں کے ذریعے ہی درخواست جمع کرائیں۔
یہ قدم پاکستان کے لیے اہم ہے کیونکہ ملک میں روزگار کے مواقع محدود ہیں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے۔ بیرون ملک نوکریاں ان کے لیے ایک نئی امید بن سکتی ہیں۔ اگر منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو نہ صرف پاکستانیوں کو بہتر روزگار ملے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔
بیلاروس میں پاکستانی کمیونٹی اس خبر پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے آنے والے کارکنوں کے لیے یہ ملک محفوظ، دوستانہ، اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے والا ہے۔ یہ اقدام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا اور پاکستانی ہنرمندوں کے لیے یورپ کے دروازے کھولے گا۔
Comments
Post a Comment