Featured
- Get link
- X
- Other Apps
100 روپے کی رشوت کے الزام میں 39 سال کی سماعت، عدالت نے بری کر دیا، ملزم نے کہا کہ انصاف ملا لیکن زندگی ٹوٹ گئی
رائے پور کے اودھیا پاڑہ کی تنگ گلیوں میں ایک پرانا مکان کھڑا ہے۔ مٹی جھڑتی ہے۔ لکڑی کا دروازہ کمزور ہے۔ اسی گھر میں تقریباً 84 سال کے جگیشور پرساد آودھیا رہتے ہیں۔ ان کے چہرے پر تھکن ہے۔ ان کی آنکھوں میں وہ انتظار ہے جو برسوں کی جدوجہد کے بعد بھی کم نہیں ہوا۔
گھر کی دیواریں خستہ ہیں۔ یہاں کوئی نام کی تختی نہیں لگی۔ کوئی اعزاز نہیں رکھا گیا۔ یہ دیواریں اگر بولتیں تو بتاتیں کہ ایک شخص نے تین دہائیوں سے زیادہ وقت انصاف کے پیچھے لگ کر گزارا۔ وہ صبح کے اٹھنے سے لے کر رات کے سونے تک ایک ہی امید لیے بیٹھا رہا کہ ایک دن حقیقت سامنے آئے گی۔ ایک دن عدالت اسے بے گناہ کہے گی۔ وہ دن آیا لیکن بہت دیر سے۔ زندگی کا بڑا حصہ اس انتظار میں گزر گیا۔
جگیشور پرساد آودھیا غیر منقسم مدھیہ پردیش کے سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں کلرک تھے۔ یہ 1986 کی بات ہے۔ ان پر 100 روپے رشوت لینے کا الزام لگایا گیا۔ اس الزام کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کیا۔ اس گرفتاری نے ان کی پوری زندگی کو ایک اجنبی راستے پر دھکیل دیا۔ نوکری رک گئی۔ عزت ختم ہو گئی۔ خاندان پر دباؤ بڑھ گیا۔ رشتے بکھرنے لگے۔
اس الزام کے بعد وہ فوراً بے قصور ثابت نہیں ہو سکے۔ مقدمہ چلتا رہا۔ سال گزرتے گئے۔ ثبوت کمزور تھے۔ ریکارڈ پر سوال اٹھتے رہے۔ لیکن انصاف دینے والے نظام نے ان کی بات سننے میں دہائیاں لگا دیں۔ اب تقریباً 39 سال بعد ہائیکورٹ نے انہیں باعزت بری کر دیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ خوشی نہیں لایا۔ ان کی آواز میں تھکن ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ اب بے فائدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمے نے ان سے سب کچھ چھین لیا۔ نوکری ختم ہو گئی۔ معاشرہ بدگمان ہو گیا۔ محلے والوں نے فاصلہ رکھ لیا۔ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم نہ دے سکے۔ وہ ان کی شادیاں نہ کر سکے۔ رشتہ دار ایک ایک کر کے دور ہوتے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سارے بوجھ کو اٹھاتے اٹھاتے ان کی بیوی بھی بیمار پڑی اور مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے چل بسی۔
وہ بتاتے ہیں کہ عدالت کی طرف سے بے گناہ قرار دیے جانے کا کاغذ ان سب نقصانات کے سامنے بہت ہلکا لگتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کاغذ ان 39 برسوں کی سزا کو نہیں توڑ سکتا۔ وہ ان دنوں کی واپسی نہیں لا سکتا جن میں وہ روز عدالتوں کے چکر لگاتے رہے۔ وہ ان لمحوں کی بھرپائی نہیں کر سکتا جب ان کے بچے سہارا چاہتے تھے اور وہ خود مشکل میں پھنسے تھے۔
جگیشور پرساد آودھیا جب گفتگو کرتے ہیں تو کئی بار خاموش ہو جاتے ہیں۔ جیسے اندر دبے دکھ کا بوجھ پھر بڑھ جاتا ہو۔ وہ ایک پرانی فائل کھولتے ہیں۔ اس میں پرانی تاریخوں کی پرچیاں ہیں۔ ہر صفحہ پیلا پڑ چکا ہے۔ کونے پھٹ چکے ہیں۔ یہ صفحے ان کی زندگی کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ایک ایسا ریکارڈ جسے وہ کبھی نہیں بھول سکے۔
وہ آہستہ سے کہتے ہیں کہ انہوں نے رشوت نہیں لی تھی۔ انہیں کسی نے پھنسایا تھا۔ لیکن یہ بات ثابت کرتے کرتے ان کا پورا خاندان ٹوٹ گیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ کئی بار انہوں نے سسٹم سے امید لگائی۔ کئی بار سوچا کہ اب فیصلہ آ جائے گا۔ لیکن ہر بار نئی تاریخ ملتی۔ نیا مرحلہ آتا۔ نیا کاغذ جمع کرنا پڑتا۔ نئے گواہ کی تلاش ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک عام آدمی کے لئے اتنی لمبی قانونی جدوجہد برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔
ان کے مطابق انہیں ہر دن خوف رہتا تھا کہ کب کوئی نیا مسئلہ سامنے آ جائے گا۔ کب کوئی نیا الزام لگ جائے گا۔ کب کوئی افسر فائل روک دے گا۔ کب کوئی سماعت ملتوی ہو جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ انصاف کی تلاش نے انہیں اندر سے ختم کر دیا تھا۔
عدالت کا فیصلہ اب ان کے سامنے ہے۔ کاغذ پر لکھا ہے کہ وہ بے قصور تھے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس فیصلے نے ان کے گھر میں خوشی نہیں لائی۔ ان کے بچے بڑے ہو گئے۔ ان کے خواب بدل گئے۔ ان کا خاندان ٹوٹ گیا۔ ان کی بیوی دنیا چھوڑ گئی۔ وہ خود اب 84 سال کے ہیں۔ ان میں وہ طاقت نہیں رہی کہ وہ نئی زندگی شروع کریں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر فیصلہ کچھ سال پہلے آ جاتا تو شاید کئی چیزیں بچ جاتیں۔ شاید ان کی نوکری واپس ملتی۔ شاید بیوی کی جان بچ جاتی۔ شاید بچوں کی تعلیم بہتر ہو جاتی۔ شاید خاندان اعتماد بحال کر لیتا۔
ان کی نظر میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ دیر سے دیا گیا انصاف انسان کو کیا دیتا ہے۔ ایک فیصلے کی تاخیر کتنی زندگیاں بدل سکتی ہے۔ ایک غلط الزام کتنے رشتے ختم کر سکتا ہے۔ ایک کاغذ کتنے خواب مٹا سکتا ہے۔
جگیشور پرساد آودھیا کی کہانی ایک فرد کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے نظام کی تصویر ہے جس میں ایک عام کارکن کو انصاف کے لئے زندگی کا سب سے بڑا حصہ قربان کرنا پڑ جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا شخص اس طرح کی آزمائش کا شکار نہ ہو۔
وہ اب خاموش رہتے ہیں۔ ان کے پاس شکایت کے لئے زیادہ وقت نہیں بچا۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کی باقی زندگی سکون سے گزر جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ انصاف مانگتے مانگتے تھک چکے ہیں۔ اب وہ صرف آرام چاہتے ہیں۔
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment