انڈیا میں 13 سالہ طالبہ کی موت نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ والدین نے الزام لگایا ہے کہ سکول میں سخت جسمانی سزا نے ان کی بچی کی جان لے لی۔ یہ واقعہ وسائی کے ایک سکول میں پیش آیا۔ بچی کا نام کاجل گاؤڈ تھا۔ اس کا ایک اور نام انشیکا بھی تھا۔ وہ چھٹی جماعت کی طالبہ تھی۔ یہ واقعہ 8 نومبر کی صبح اس وقت شروع ہوا جب کچھ طلبا دیر سے سکول پہنچے۔ ٹیچر نے دیر سے آنے والے تمام بچوں کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سزا میں 100 مرتبہ اٹھک بیٹھک شامل تھی۔ کاجل بھی ان بچوں میں شامل تھی۔
کچھ بچیوں نے سزا بیگ کندھوں پر اٹھا کر پوری کی۔ وہ مسلسل اٹھتی بیٹھتی رہیں۔ کاجل نے بھی یہی کیا۔ وہ خاموش رہی اور سزا پوری کر دی۔ لیکن اس کے بعد اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ گھر پہنچنے کے بعد اس نے والدین کو بتایا کہ اس کی ٹانگوں میں شدید درد ہے۔ اس کے چہرے پر کمزوری تھی۔ اس کی سانس بھی معمول سے تیز ہو گئی تھی۔ والدین نے فوراً اسے وسائی کے آستھا ہسپتال لے جایا۔ وہاں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ مگر ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچی کی حالت سنگین ہے اور اسے بہتر سہولتوں والے ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے۔
کاجل کو دوسرے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کا جسم بہت کمزور ہو چکا ہے۔ اس کے پٹھوں میں سخت کھنچاؤ تھا۔ اس کے بعد حالت مزید بگڑ گئی۔ اسے ممبئی کے جے جے ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے علاج جاری رکھا۔ وہ مشینوں کے سہارے سانس لے رہی تھی۔ وہ مسلسل بے ہوش تھی۔ سنیچر کی رات 15 نومبر کو ڈاکٹروں نے بتایا کہ کاجل زندگی کی جنگ ہار گئی ہے۔
پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وسائی پولیس کے سینئر انسپیکٹر دلیپ گھگے نے بتایا کہ تقریباً 50 کے قریب بچیاں دیر سے آئی تھیں۔ ان سب کو 100 بار اٹھنے بیٹھنے کی سزا دی گئی۔ والدین نے رپورٹ درج کرائی ہے کہ یہ سزا بہت سخت تھی اور اس کے بعد کاجل کی صحت خراب ہوئی۔ پولیس نے سکول انتظامیہ سے ریکارڈ طلب کیا ہے۔ ٹیچر کا بیان بھی ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ پولیس طبی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے تاکہ موت کی اصل وجہ کی تصدیق ہو سکے۔
والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بچی پہلے صحت مند تھی۔ وہ کھیلتی تھی۔ وہ پڑھتی تھی۔ اسے کسی قسم کی طبی شکایت نہیں تھی۔ انہیں یقین ہے کہ سخت جسمانی سزا نے اس کے جسم کو شدید نقصان پہنچایا۔ والدین نے کہا کہ سزا کے بعد کاجل گھر آئی تو اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ وہ چلنے میں مشکل محسوس کر رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کے جسم میں درد پھیل رہا ہے۔
اہلخانہ کے مطابق سکول انتظامیہ نے اس واقعے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ کسی نے گھر فون نہیں کیا۔ کسی نے یہ معلوم نہیں کیا کہ بچی کی حالت کیسی ہے۔ اہلخانہ کہتے ہیں کہ اگر سکول نے ذمہ داری دکھائی ہوتی تو شاید کاجل کی جان بچ سکتی تھی۔ گھر والے انصاف چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سچ سامنے آئے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو۔
سکول انتظامیہ نے ابھی تک واضح بیان جاری نہیں کیا۔ کچھ عملے نے میڈیا کو کہا کہ سزا معمول کے مطابق تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے روزانہ ہلکی پھلکی ورزشیں کرتے ہیں۔ ان کے مطابق 100 اٹھک بیٹھک کو سزا نہیں بلکہ ڈسپلن کی مشق کے طور پر لیا جاتا ہے۔ لیکن والدین اس بات کو قبول نہیں کرتے۔ ان کے مطابق کاجل کی حالت دیکھ کر واضح تھا کہ یہ سخت سزا تھی۔ ان کے مطابق سکول کو بچوں کی صحت کا خیال رکھنا چاہئے۔ کوئی بھی سزا بچے کی جان کے لئے خطرہ نہیں بننی چاہئے۔
یہ واقعہ سوال اٹھاتا ہے کہ بھارت کے کئی سکول اب بھی جسمانی سزا کیوں دیتے ہیں۔ قانون میں واضح ہے کہ بچوں کو جسمانی سزا نہیں دی جا سکتی۔ لیکن اس کے باوجود کئی سکول اس عمل کو جاری رکھتے ہیں۔ والدین، ماہرین تعلیم اور بچوں کے حقوق کی تنظیمیں بار بار کہہ چکی ہیں کہ جسمانی سزا بچوں کے جسم اور ذہن دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ کچھ بچے اس سے شدید ذہنی دباؤ میں چلے جاتے ہیں۔ کچھ کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔ اس واقعے نے اس بحث کو دوبارہ توجہ میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔
کاجل کی موت نے پورے علاقے میں دکھ اور غصہ پیدا کر دیا ہے۔ محلے والوں نے اہلخانہ کے ساتھ تعزیت کی۔ کئی نے سکول کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سخت کارروائی کی جائے۔ کوئی بھی ٹیچر ایسا قدم نہ اٹھائے جو بچوں کی زندگی کے لئے خطرہ بن جائے۔ والدین کا کہنا ہے کہ سکول مستقبل بناتے ہیں۔ سکول کو بچوں کی حفاظت کو سب سے پہلے رکھنا چاہئے۔
پولیس اس واقعے کی تفتیش کر رہی ہے۔ اس دوران میڈیکل بورڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔ بورڈ یہ جانچ کرے گا کہ کاجل کی موت کی اصل وجہ کیا تھی۔ کیا سزا نے براہ راست نقصان پہنچایا۔ کیا کوئی اندرونی بیماری تھی، یا جسمانی دباؤ نے اس بیماری کو بھڑکا دیا۔ رپورٹس آنے کے بعد قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
کئی ماہرین بچوں کے معاملے میں سخت جسمانی سرگرمیوں کے خطرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بچوں کے جسم ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوتے۔ اچانک سخت ورزش یا سزا ان کے پٹھوں، دل اور سانس کے نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ کچھ بچوں میں پانی کی کمی، کمزوری یا چھپی ہوئی بیماریوں کا امکان ہوتا ہے۔ اس لئے سکولوں کو احتیاط کرنی چاہئے۔ ہر بچے کی حالت اور صحت کو دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ ایک غلط فیصلہ کتنی بڑی قیمت لے سکتا ہے۔
کاجل کے والدین اب ایک ہی سوال پوچھتے ہیں۔ کیا ایک سزا ایک بچے کی جان لے سکتی ہے۔ ان کے سوال سے اس واقعے کی اصل سنگینی سامنے آتی ہے۔ ایک 13 سالہ بچی جو صرف دیر سے اسکول پہنچی تھی، وہ واپس گھر زندہ نہیں لوٹی۔ وہ والدین کے سامنے تکلیف میں رہی۔ وہ کئی ہسپتالوں میں منتقل ہوتی رہی۔ آخر میں وہ دنیا چھوڑ گئی۔
کاجل کی کہانی صرف ایک خاندان کا درد نہیں ہے۔ یہ سکولوں کے نظام کے لئے ایک سخت یاد دہانی ہے۔ بچوں کی حفاظت ہر فیصلے میں سب سے اہم ہونی چاہئے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک چھوٹی غلطی بھی بڑے نقصان میں بدل سکتی ہے۔ اہلخانہ انصاف چاہتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا کسی اور بچے کے ساتھ نہ ہو۔
Comments
Post a Comment