Skip to main content

Featured

Quantum Algorithms: The Real Power Behind Quantum Computing

       Quantum Algorithms: The Real Power Behind Quantum Computing Most people think quantum computing is still far away. Many believe it will take 10 or more years before it becomes useful. That idea is not fully correct. Some parts of quantum computing already exist and are being used in research and early applications. The real strength of this technology comes from something called quantum algorithms. If you want to understand quantum computing, you need to understand quantum algorithms. They are the methods that tell a quantum computer how to solve problems. Without algorithms, even the most powerful machine cannot do anything useful. This article explains quantum algorithms in a clear and simple way. You will learn what they are, how they work, and where they are used in real life. What Is an Algorithm An algorithm is a set of steps used to solve a problem. For example: Searching for a name in a list Sorting numbers Solving equations Every computer uses algorit...

ایف بی آر نے تمام افراد کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن کی ای فائلنگ لازمی قرار دے دی

       
ایف بی آر کا اعلان، تمام شہریوں کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن اور ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ کی ای فائلنگ لازمی

اسلام آباد، 10 نومبر 2025ء — فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے انکم ٹیکس کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی متعارف کراتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب ملک بھر کے تمام افراد کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن کے ساتھ ساتھ ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ کی ای-فائلنگ (electronic filing) لازمی قرار دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ٹیکس شفافیت، خودکار نظام کے فروغ، اور ڈیجیٹل گورننس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔


ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن S.R.O 2107(I)/2025 کے مطابق انکم ٹیکس رولز 2002 کے رول 73 کے سب رول (2DD) میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے بعد ہر فرد کو انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت اپنی ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ بھی الیکٹرانک طور پر جمع کرانا ہوگی۔ اس سے پہلے یہ شرط صرف مخصوص ٹیکس دہندگان پر لاگو تھی، مگر اب یہ لازمی طور پر تمام افراد پر لاگو ہوگی۔


ایف بی آر حکام کے مطابق، یہ قدم ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ریونیو ڈیٹا کو بہتر طور پر منظم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ سے ایف بی آر کو یہ جانچنے میں آسانی ہوگی کہ کون سے افراد پر ٹیکس کی کٹوتی ہوئی اور کس سطح پر ریٹرن جمع کرائی گئی ہے۔ اس تبدیلی کے ذریعے ریونیو اتھارٹی کو غیر ظاہر شدہ آمدنی، ٹیکس چوری، اور جعلی کلیمز کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔


نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ترمیم انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237 کے تحت کی گئی ہے۔ اس سے قبل اس ترمیم کا مسودہ 3 نومبر 2025ء کو S.R.O 2070(I)/2025 کے ذریعے عوامی مشاورت کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مشاورت کے بعد موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لے کر حتمی منظوری دی گئی ہے۔


ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیکس دہندگان کو جدید آن لائن سسٹم کی طرف منتقل کرنے کا حصہ ہے، جہاں تمام مالیاتی معلومات خودکار ڈیٹا بیس میں محفوظ ہوں گی۔ اس نظام سے سالانہ ریٹرن فائل کرنے کا عمل تیز اور شفاف ہوگا، جبکہ انسانی غلطیوں اور تاخیر کے امکانات کم ہوں گے۔


ٹیکس ماہرین کے مطابق، ای-فائلنگ کو لازمی بنانے سے ملک میں ڈیجیٹل فنانس کی ثقافت کو فروغ ملے گا اور ایف بی آر کو حقیقی معاشی سرگرمیوں کا بہتر تجزیہ کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم، ماہرین نے یہ بھی کہا کہ ایف بی آر کو اس نظام کے لیے تکنیکی معاونت، رہنمائی، اور صارف دوست انٹرفیس کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ عام شہری بھی باآسانی اپنی ریٹرن جمع کرا سکیں۔


ایف بی آر نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے آئرس (IRIS) اکاؤنٹس کے ذریعے بروقت ریٹرن جمع کرائیں اور نئی ہدایات پر عمل کریں۔ جو افراد مقررہ مدت میں ای-فائلنگ نہیں کریں گے، ان پر جرمانہ یا دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم پاکستان میں ٹیکس کمپلائنس کے کلچر کو مضبوط کرے گی، سرکاری محصولات میں اضافہ لائے گی، اور مالی شفافیت کے عالمی معیار کے قریب لے جائے گی۔ اس اقدام سے معیشت کے غیر دستاویزی حصے کو بھی منظم کرنے میں مدد ملے گی۔

Comments