Featured
- Get link
- X
- Other Apps
صادق آباد، کھوجی کتوں کے ساتھ چوروں کی تلاش میں جانے والی چار رکنی ٹیم کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔
ضلع رحیم یار خان کے شہر صادق آباد میں ایک سنگین واقعہ پیش آیا ہے۔ نجی سراغ رساں کتوں کی مدد سے چوروں کو پکڑنے کا کام کرنے والی چار رکنی ٹیم کو ڈاکوؤں نے اغوا کر لیا۔ یہ ٹیم کئی سال سے کھوجی کتوں کے ذریعے مجرموں کے سراغ لگانے کا کام کرتی تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ ٹیم جرائم کی نشاندہی میں پہلے بھی کئی بار پولیس کی مدد کر چکی تھی۔ واقعے نے علاقے میں خوف پیدا کر دیا ہے۔ لوگ پریشان ہیں۔ آپ ہر جگہ اسی واقعے کی بات سن سکتے ہیں۔
صادق آباد پولیس نے بتایا کہ چاروں افراد اپنے کھوجی کتوں کے ساتھ علاقے میں موجود تھے۔ وہ اوباڑو کے قریب ایک کارروائی کے لیے جا رہے تھے۔ راستے میں ڈاکوؤں نے انہیں روک لیا۔ ڈاکوؤں نے ٹیم کے افراد کو گاڑی سے اتارا اور زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ کھوجی کتوں کو بھی ساتھ لے جایا گیا۔ پولیس کو اطلاع ملنے میں تاخیر ہوئی کیونکہ ٹیم کے پاس موجود موبائل فون بند ہو گئے تھے۔ اہل علاقہ نے کئی گھنٹے بعد مشکوک نقل و حرکت دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس کے مطابق مقدمہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔ خاندان والوں نے روتے ہوئے پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مغویوں کے گھر پر سوگ کا ماحول ہے۔ والدین اور بچوں نے پولیس کو بتایا کہ انہیں اپنے پیاروں کی کوئی خبر نہیں مل رہی۔ ان کے مطابق ڈاکوؤں نے اب تک کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ پولیس حکام نے کہا کہ یہ صورت حال خطرناک ہے کیونکہ تاوان کا مطالبہ نہ آنا کئی معنی رکھتا ہے۔
پولیس نے بتایا ہے کہ پانچ روز قبل کھوجی کتوں اور نجی ٹیم کا لاپتہ ہونا پہلی نشانی تھا۔ اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے کام میں مصروف ہیں یا کسی دور دراز علاقے میں کھوجی کارروائی میں لگے ہیں۔ بعد میں جب رابطہ بالکل ختم ہو گیا اور موبائل فون مسلسل بند ملے تو پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا شروع کیا۔ موبائل فون ڈیٹا کی مدد سے ان کی آخری لوکیشن اوباڑو کے قریب نکلی۔ پولیس وہاں پہنچی لیکن ڈاکو پہلے ہی انہیں لے جا چکے تھے۔
رحیم یار خان، کشمور اور گھوٹکی پولیس نے مشترکہ کارروائی شروع کر دی ہے۔ تینوں اضلاع کی سرحدیں جرائم پیشہ گروہوں کے لیے محفوظ راستے سمجھی جاتی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکو گروہ ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں منتقل ہو جاتے ہیں تاکہ گرفتاری سے بچ سکیں۔ اسی وجہ سے مشترکہ آپریشن ضروری ہے۔ پولیس نے علاقے میں داخل ہونے والے تمام راستے چیک کرنا شروع کر دیے ہیں۔ کئی مقامات پر ناکے لگا دیے گئے ہیں۔ پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ اغوا میں ملوث گروہ علاقے میں سرگرم بدنام ڈاکوؤں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ یہ گروہ پہلے بھی سرکاری اہلکاروں اور شہریوں کو اغوا کر چکا ہے۔ ان کا طریقہ واردات یہی ہوتا ہے کہ وہ اچانک راستہ روک کر لوگوں کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ بعد میں تاوان مانگتے ہیں۔ لیکن اس واقعے میں ابھی تک تاوان کی کوئی کال نہیں آئی۔ پولیس سمجھتی ہے کہ گروہ اپنی جگہ تبدیل کر رہا ہوگا یا حالات کو دیکھ رہا ہوگا۔
کھوجی کتوں کے اغوا نے بھی لوگوں کو حیران کیا ہے۔ کھوجی کتے جرم کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر انہیں جرائم پیشہ گروہوں کے قبضے میں رکھا گیا تو یہ بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ اداروں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ ڈاکو ان کتوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ پولیس کے مطابق کتوں کی قیمت لاکھوں روپے ہوتی ہے۔ ان کی تربیت پر برسوں لگتے ہیں۔ اس وجہ سے ڈاکو انہیں نقد رقم کے بدلے فروخت بھی کر سکتے ہیں۔
مغویوں کے اہل خانہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر کے افراد خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم بہت محنتی تھی۔ وہ مجرموں کی نشاندہی میں پنجاب اور سندھ کی پولیس کی مدد کرتی تھی۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ مغویوں کو جلد بازیاب کرایا جائے۔
پولیس حکام نے کہا ہے کہ کارروائی مکمل منصوبہ بندی سے کی جا رہی ہے۔ علاقے کے جنگلات اور کچے کے علاقوں میں آپریشن مشکل ہوتا ہے۔ ڈاکو وہاں چھپنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پولیس نے کچے کے راستوں کی نگرانی بڑھا دی ہے۔ کئی مقامات پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ پولیس نے مقامی کمیونٹی سے بھی مدد مانگی ہے۔ کچھ لوگوں نے مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع بھی دی ہے۔
پولیس اعلی حکام نے کہا ہے کہ یہ کیس ان کی ترجیح ہے۔ وہ روزانہ پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مقامی افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ کچھ زیر حراست افراد سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ پولیس نے علاقے کے جرائم پیشہ گروہوں کے رابطوں کا ڈیٹا بھی چیک کرنا شروع کر دیا ہے۔
صادق آباد میں لوگوں نے واقعے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورت حال خراب ہو رہی ہے۔ لوگ خوف میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سراغ رساں ٹیم جیسی تربیت یافتہ لوگ بھی محفوظ نہیں تو عام شہری کیسے محفوظ ہوں گے۔ پولیس نے لوگوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مغویوں کی بازیابی کے قریب ہیں۔
اس واقعے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی فکر میں ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجرم اب پہلے کی طرح چھوٹے جرائم تک محدود نہیں رہے۔ وہ منظم طریقے سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کیس نے واضح کیا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ اب تربیت یافتہ لوگوں کو بھی نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں۔
پولیس نے کہا ہے کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ خفیہ ادارے بھی مدد کر رہے ہیں۔ علاقوں کی فضائی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رات کے وقت گشت بڑھائیں۔ کچے کے علاقوں میں جدید گاڑیاں بھیجی گئی ہیں۔
ایس ایس پی رحیم یار خان نے کہا ہے کہ وہ جلد مثبت پیش رفت کی امید رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مغویوں کی بازیابی پولیس کی ذمہ داری ہے۔ وہ اس ذمہ داری کو پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پولیس کا ساتھ دیں اور مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں۔
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment