Featured
- Get link
- X
- Other Apps
بلوچستان میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف بڑا آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ میں حکام نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب سیکیورٹی اداروں کو رپورٹس موصول ہوئیں کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو مختلف جرائم اور دہشت گردی کے واقعات میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت نے معاملے کو حساس قرار دیا ہے۔ صورتحال نے فوری ایکشن کی ضرورت واضح کر دی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں ڈیڑھ سے دو لاکھ کے درمیان نان کسٹم پیڈ گاڑیاں موجود ہیں۔ یہ گاڑیاں رجسٹرڈ نہیں ہوتیں اور اکثر بغیر کسی قانونی کاغذ کے چلتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد ریاستی نگرانی کے لیے خطرہ بنتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس مسئلے کو صوبے میں امن و امان کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ محکمے کے ساتھ پولیس، کسٹم اور ایف سی کی ٹیمیں بھی ایکشن میں شامل ہوں گی۔ کارروائیاں پورے صوبے میں ہوں گی۔ تمام اداروں کے عملے کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ غیر قانونی گاڑیوں کی نشاندہی ہو، انہیں ضبط کیا جائے، اور ان کے استعمال کو فوری روکا جائے۔ حکام کے مطابق مشترکہ کارروائی کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں۔ مستونگ میں کسٹم کے عملے نے ایک گودام پر چھاپہ مارا۔ وہاں سے 11 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں برآمد ہوئیں۔ ان گاڑیوں کی مالیت 8 کروڑ 10 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ چھاپے کے بعد گاڑیوں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید مقامات پر بھی نگرانی تیز کی جا رہی ہے۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے حکام نے بتایا کہ اب تک صوبے میں 40 ہزار سے زیادہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ کی جا چکی ہے۔ پروفائلنگ کے دوران گاڑیوں کے استعمال، مالکان، نمبروں اور موجودہ حالت کا ریکارڈ جمع کیا گیا ہے۔ یہ ریکارڈ آنے والے آپریشن میں واضح نتائج دے سکتا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر بھی غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین نے بتایا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے مسائل کئی سال سے سامنے آتے رہے ہیں۔ ان گاڑیوں کو چوری، اسمگلنگ اور دہشت گردی میں استعمال کیے جانے کے ثبوت موجود ہیں۔ گاڑیاں چونکہ رجسٹرڈ نہیں ہوتیں، اس لیے ان کی ٹریکنگ ممکن نہیں ہوتی۔ حکام نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ آپریشن کو سخت اور مسلسل رکھنے کی ضرورت ہے۔ اداروں کا کہنا ہے کہ اگر کارروائی روکی گئی تو غیر قانونی گاڑیوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
بلوچستان کی حکومت نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اضلاع میں گشت بڑھایا جائے۔ مشکوک گاڑیوں کو روکا جائے۔ گاڑی کی ملکیت، انجن نمبر اور شاسی نمبر کی تصدیق کی جائے۔ اگر گاڑی قانونی دستاویز کے بغیر ہو، تو اسے ضبط کیا جائے۔ حکام نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس عمل میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
بازاروں، ورکشاپس اور خفیہ گوداموں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ کئی گاڑیاں ایسی جگہوں پر کھڑی رہتی ہیں جہاں عمومی طور پر چیکنگ نہیں ہوتی۔ اداروں نے مشترکہ انٹیلی جنس ٹیمیں بھی بنا دی ہیں۔ ان ٹیموں کا کام مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ گاڑیوں کی نقل و حرکت روکی جائے اور ان کے نیٹ ورک کو توڑا جائے۔
بلوچستان میں سرحدی علاقوں سے غیر قانونی گاڑیوں کی آمد بھی مسلسل رپورٹ ہو رہی ہے۔ حکام نے بارڈر چیک پوسٹوں پر چیکنگ سخت کر دی ہے۔ ایف سی اور کسٹم کے عملے کو خصوصی بریفنگ دی گئی ہے۔ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ کسی گاڑی کو بغیر مکمل جانچ کے آگے نہ جانے دیا جائے۔ حکام کے مطابق سرحدی چیکنگ بہتر ہو تو غیر قانونی گاڑیوں میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔
کارروائی کا مقصد عوام کی حفاظت ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ شہریوں کی جان اور مال زیادہ محفوظ ہوگا۔ غیر قانونی گاڑیوں کا خاتمہ سیکیورٹی کی فضا کو بہتر کرے گا۔ پولیس اور ایکسائز حکام نے شہریوں سے تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر کوئی غیر قانونی گاڑی دیکھے تو اطلاع دی جائے۔ یہ سلسلہ صوبے کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے۔
بلوچستان حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ کارروائی وقتی نہیں ہوگی۔ ادارے اس مہم کو مسلسل چلائیں گے۔ حکام نے کہا ہے کہ مسئلہ بڑا ہے، اس لیے حل بھی مستقل بنیادوں پر ہوگا۔ کارروائی کے نتائج آنے والے ہفتوں میں سامنے آئیں گے۔ اداروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں قانون کی بالادستی قائم کرنا ترجیح ہے۔
Comments
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Acha kab sa
ReplyDelete