Featured
- Get link
- X
- Other Apps
ڈگری اٹیسٹیشن کا نیا آن لائن بلاک چین نظام، طلبہ کے لیے مکمل ڈیجیٹل سہولت تیار
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ڈگری اٹیسٹیشن کے پورے عمل کو مکمل طور پر آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ کو دستاویزات کی تصدیق کے لیے کسی دفتر نہ جانا پڑے۔ آپ اپنی درخواست گھر بیٹھے جمع کر سکیں۔ اور آپ کی ڈگری کا پورا ریکارڈ محفوظ، شفاف اور فوری تصدیق کے قابل ہو۔
ایچ ای سی نے اس نظام میں بلاک چین ٹیکنالوجی شامل کرنے کی منظوری دے دی۔ یہ منصوبہ گزشتہ چند مہینوں سے تیار ہو رہا تھا۔ اب اس کی خریداری اور تکنیکی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ چھ ماہ میں یہ پورا نظام فعال ہو جائے گا۔ مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق متعلقہ ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر مرحلہ وقت پر مکمل کرے۔ تاخیر نہ ہو۔ اور طلبہ کو جلد از جلد نیا سسٹم مل جائے۔
نذیر محمود، جو قائم مقام چیئرمین ہیں، نے ٹیم سے کہا کہ جلدی کریں۔ پورا سسٹم فعال صورت میں سامنے لائیں۔ اس بریفنگ میں انہیں بتایا گیا کہ نئے نظام کا فائدہ یہ ہے کہ کسی طالبعلم کو کسی قسم کی فائل جمع نہیں کرانی پڑے گی۔ کوئی فارم ہاتھ میں پکڑ کر دفتر نہیں جانا پڑے گا۔ کوئی قطار نہیں لگانی پڑے گی۔ تمام کام پورٹل پر ہو گا۔ آپ اپنی درخواست کھولیں۔ مطلوبہ معلومات ڈالیں۔ اور تصدیق کا عمل چند مراحل میں مکمل ہو جائے۔
ملک کے وہ 25 تعلیمی ادارے جنہوں نے ای آر پی سسٹم مکمل طور پر نافذ کیا ہوا ہے ان کا ریکارڈ براہ راست بلاک چین سے جڑ جائے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ وہاں پڑھنے والے طلبہ کی ڈگریاں خودکار طور پر ایچ ای سی کے ریکارڈ کا حصہ بنتی رہیں گی۔ جب طالب علم گریجویٹ ہو گا تو اس کی ڈگری، ٹرانسکرپٹ اور متعلقہ تمام معلومات بلاک چین میں شامل کر دی جائیں گی۔ آپ کو کچھ بھی جمع نہیں کروانا پڑے گا۔ تصدیق پہلے ہی ہو چکی ہو گی۔ جب آپ کسی ادارے میں اپلائی کریں گے تو وہ ادارہ صرف ایچ ای سی پورٹل پر آپ کی ڈگری چیک کرے گا۔ انہیں تصدیق چند سیکنڈ میں مل جائے گی۔
جن یونیورسٹیوں نے ابھی تک ای آر پی نہیں لگایا وہاں یہ عمل کچھ مختلف ہو گا۔ ان اداروں کے طلبہ اپنی ڈگری اور ٹرانسکرپٹ پورٹل میں اپ لوڈ کریں گے۔ یہ ریکارڈ متعلقہ یونیورسٹی کے ڈیش بورڈ پر چلا جائے گا۔ یونیورسٹی چیک کرے گی کہ دستاویز درست ہے یا نہیں۔ جب یونیورسٹی تصدیق کرے گی تو وہی ریکارڈ بلاک چین میں شامل ہو جائے گا۔ اس کے بعد آپ کے دستاویزات بھی ای آر پی والے اداروں کی طرح محفوظ اور قابل تصدیق ہو جائیں گے۔
نیا نظام ڈگری اٹیسٹیشن کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دے گا۔ ہر ریکارڈ محفوظ ہو گا۔ کوئی بھی دستاویز گم نہیں ہو گی۔ ریکارڈ ہیرا پھیری سے محفوظ رہے گا۔ بلاک چین کی وجہ سے کوئی بھی شخص کسی بھی ڈیٹا کو تبدیل نہیں کر سکے گا۔ ادارے، وزارت خارجہ، سفارتخانے اور نجی تنظیمیں فوراً اٹیسٹڈ ریکارڈ دیکھ سکیں گی۔ اس سے تصدیق کے لیے ہفتوں انتظار کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔
ایچ ای سی کے مطابق نیا آن لائن سسٹم آپ کو یہ سہولت دے گا کہ آپ اپنی درخواست موبائل پر کھولیں۔ درخواست جمع کریں۔ فیس آن لائن ادا کریں۔ ریکارڈ اپ لوڈ کریں۔ اس کے بعد پورٹل پر آپ کی پوزیشن صاف نظر آئے گی۔ عمل شفاف ہو جائے گا۔ کوئی اضافی چکر نہیں لگے گا۔ کوئی دستاویز ہاتھ میں اٹھا کر دفتر نہیں جانا پڑے گا۔ حکام نے بتایا کہ اس نظام کے فعال ہونے کے بعد جسمانی مہریں ختم ہو جائیں گی۔ فائلوں پر کاغذی دستخط بھی ختم ہو جائیں گے۔ ہر چیز ڈیجیٹل تصدیق سے گزرے گی۔
پاکستان میں ہر سال ہزاروں طلبہ ڈگری اٹیسٹیشن کے لیے اپلائی کرتے ہیں۔ اس پورے عمل میں کئی مشکلات ہوتی تھیں۔ ریکارڈ چیک، قطاریں، اپائنٹمنٹ، دستاویزات کی بار بار تصدیق، فیسوں کا پیچیدہ نظام، اور ہفتوں تک انتظار۔ طلبہ کو دفاتر کے چکر لگانا پڑتا تھا۔ کئی لوگ چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں میں صرف اٹیسٹیشن کے لیے سفر کرتے تھے۔ اس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوتا تھا۔
ایچ ای سی کے مطابق نیا نظام ان سب مسائل کو کم کرے گا۔ بلاک چین کی وجہ سے تصدیق تیز ہو گی۔ ڈیٹا محفوظ رہے گا۔ کوئی بھی ادارہ تصدیق فوری طور پر حاصل کر سکے گا۔ بین الاقوامی ادارے بھی اس ریکارڈ تک رسائی حاصل کریں گے۔ جب پاکستانی طلبہ بیرون ملک جاب یا اسکالرشپ کے لیے اپلائی کریں گے تو ان کا ریکارڈ آسانی سے چیک ہو سکے گا۔
یہ نظام حکومتی اداروں کے درمیان ڈیجیٹل رابطے کو بھی بہتر کرے گا۔ وزارت خارجہ کے مطابق انہیں بھی تصدیق میں آسانی ملے گی۔ جب کوئی شہری بیرون ملک نوکری یا تعلیم کے لیے دستاویزات جمع کرواتا ہے تو انہیں ڈگری کی تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب یہ عمل چند منٹ میں پورا ہو سکے گا۔
نیا سسٹم کاغذ کے استعمال میں بھی کمی لائے گا۔ ہر فارم، ہر ریکارڈ، ہر دستخط ڈیجیٹل ہو گا۔ اس سے نہ صرف نظام جدید ہو گا بلکہ ماحول پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ صرف مفاد عامہ کے لیے ضروری دستاویزات پورٹل پر محفوظ ہوں گی۔ صارف انہیں جب چاہے ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے۔ کسی کو ہاتھ میں فائلیں لے کر چلنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ایچ ای سی نے اعلان کیا ہے کہ پورا نظام ٹیسٹنگ کے بعد مرحلہ وار شروع ہو گا۔ پہلے مرحلے میں وہ ادارے شامل ہوں گے جو پہلے ہی ای آر پی چلا رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں باقی یونیورسٹیاں شامل ہوں گی۔ تیسرے مرحلے میں پورا ملک اس نظام سے جڑ جائے گا۔ اس وقت تک تمام تکنیکی ٹیموں کو ہدایات دی جا چکی ہیں کہ وقت پر ڈیٹا کی منتقلی مکمل کریں۔
اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کے مطابق بلاک چین پر مبنی ڈگری اٹیسٹیشن ملک میں پہلی بار متعارف ہو رہی ہے۔ یہ قدم شفافیت میں اضافہ کرے گا۔ ریکارڈ کی حفاظت بہتر ہو گی۔ جعلسازی کے امکانات ختم ہوں گے۔ طلبہ کا وقت بچے گا۔ اداروں کا کام بھی تیز ہو گا۔
ایچ ای سی نے یہ بھی بتایا ہے کہ صارفین کے لیے پورٹل میں ہیلپ لائن، چیٹ سپورٹ اور قدم بہ قدم رہنمائی بھی موجود ہو گی۔ نئے صارفین کو درخواست جمع کرنے کا پورا طریقہ دکھایا جائے گا۔ کسی مرحلے پر کنفیوژن نہ ہو۔ پورٹل پر ہر اپڈیٹ دکھائی دے گی۔ درخواست کہاں پہنچی، کس کے پاس ہے، کب تک مکمل ہو گی، ہر چیز واضح ہو گی۔
ان تمام تبدیلیوں کے بعد پاکستان کا ڈگری تصدیق نظام جدید، محفوظ اور تیز رفتار شکل اختیار کرے گا۔ یہ قدم طویل عرصے سے طلبہ کی ضرورت تھا۔ اب وہ عمل جو پہلے ہفتوں لیتا تھا چند دن میں مکمل ہو سکے گا۔ یہ پورا نظام آئندہ نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور قابل اعتماد ڈیجیٹل ڈھانچہ فراہم کرے گا۔
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment