Featured
- Get link
- X
- Other Apps
عدالت کا فیصلہ۔ ایئر بلیو طیارہ حادثہ۔ آٹھ متاثرہ خاندانوں کو 5.4 ارب روپے معاوضہ۔ انصاف کی طویل جدوجہد کی
عدالت نے فیصلہ سنایا کہ اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہونے والے ایئر بلیو کے طیارے میں ہلاک ہونے والے آٹھ افراد کے لواحقین کو مجموعی طور پر 5.4 ارب روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ برسوں پر محیط سماعتوں، دلائل اور طویل قانونی جدوجہد کے بعد سامنے آیا۔ عدالت کے مطابق یہ معاوضہ کسی ایک انسانی جان کی قیمت نہیں بلکہ ادارہ جاتی ذمہ داری اور غفلت کے اعتراف کی ایک صورت ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے ابتدا سے واضح کیا تھا کہ ان کی جدوجہد پیسوں کے لیے نہیں بلکہ انصاف کے لیے ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے سانحے کے پس منظر میں آیا جس نے سال 2010 میں پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایئر بلیو کی پرواز ای ڈی 202 کراچی سے اسلام آباد جا رہی تھی۔ طیارے میں 152 مسافر اور عملے کے افراد سوار تھے۔ موسم خراب تھا اور اسلام آباد کے اطراف پہاڑی علاقوں میں حد نگاہ کم ہو چکی تھی۔ لینڈنگ کے دوران طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا گیا اور مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔
ان 152 افراد میں کراچی کے رہائشی گوہر رحمان کا 22 سالہ بیٹا عرفان اور ان کی ایک قریبی خاتون رشتہ دار بھی شامل تھیں۔ حادثے سے چند گھنٹے پہلے گوہر رحمان اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے اپنے بیٹے کو رخصت کر رہے تھے۔ ان کے دل میں بے چینی تھی۔ انہوں نے عرفان کو سفر میں احتیاط کرنے کی نصیحت کی اور جلد واپسی کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے بغیر مجھ سے اکیلے کام نہیں سنبھلتا۔ عرفان نے مسکرا کر والد کو یقین دلایا کہ وہ جلد واپس آئے گا۔ یہ ان دونوں کے درمیان آخری گفتگو ثابت ہوئی۔
گوہر رحمان کراچی میں پھلوں کی ریڑھی لگاتے تھے۔ ان کی زندگی محنت اور سادگی سے عبارت تھی۔ عرفان ان کا سہارا تھا۔ وہ والد کے ساتھ ریڑھی پر بھی کام کرتا تھا اور اپنی تعلیم اور نوکری کو بھی سنبھالتا تھا۔ عرفان ایک گارمنٹس فیکٹری میں کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔ وہ تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا تاکہ مستقبل میں بہتر مواقع حاصل کر سکے۔ اس کا خواب تھا کہ ایک دن وہ اپنے والد کو سخت محنت سے آزاد کرائے گا۔
حادثے کی خبر جب کراچی پہنچی تو گوہر رحمان پر سکتہ طاری ہو گیا۔ پہلے تو وہ یقین ہی نہیں کر پا رہے تھے۔ پھر جب تصدیق ہوئی تو ان کی دنیا اجڑ گئی۔ ان کا بیٹا اور قریبی عزیزہ ہمیشہ کے لیے ان سے جدا ہو چکے تھے۔ یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں تھا۔ اس دن 152 خاندان ایک ہی وقت میں غم کے سمندر میں ڈوب گئے تھے۔
حادثے کے بعد متاثرہ خاندانوں کے لیے اصل آزمائش شروع ہوئی۔ سوال یہ تھا کہ ذمہ دار کون ہے اور انصاف کیسے ملے گا۔ کئی خاندان صدمے اور مالی مشکلات کے باعث خاموش ہو گئے۔ مگر آٹھ متاثرین ایسے تھے جنہوں نے ہار ماننے سے انکار کیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ عدالت کے ذریعے حق اور ذمہ داری کا تعین کروائیں گے۔
ان آٹھ متاثرین کی قانونی جدوجہد برسوں پر محیط رہی۔ انہیں مسلسل سماعتوں، تاخیر اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مالی وسائل محدود تھے۔ ذہنی دباؤ شدید تھا۔ اس کے باوجود وہ ثابت قدم رہے۔ ان کا مؤقف شروع دن سے واضح تھا۔ یہ معاملہ پیسوں کا نہیں۔ یہ انصاف کا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ حادثے کی اصل وجوہات سامنے آئیں اور نظام کی خامیوں کو تسلیم کیا جائے۔
عدالتی کارروائی کے دوران کئی اہم سوالات اٹھائے گئے۔ خراب موسم کے باوجود لینڈنگ کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ کنٹرول ٹاور کی ذمہ داری کیا تھی۔ حفاظتی نظام میں کون سی خامیاں موجود تھیں۔ متاثرین کا مقصد کسی ایک فرد کو قصوروار ٹھہرانا نہیں تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ نظام میں بہتری آئے تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو یہ دکھ نہ سہنا پڑے۔
بالآخر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے آٹھ افراد کے لواحقین کو مجموعی طور پر 5.4 ارب روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ فیصلہ متاثرہ خاندانوں کے حق میں ایک اخلاقی اور قانونی اعتراف ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اداروں کو اپنی غفلت کا جواب دینا ہوگا۔
ان آٹھ خاندانوں کے لیے یہ فیصلہ محض مالی ریلیف نہیں تھا۔ یہ ان کی برسوں کی جدوجہد کی کامیابی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم خاموش ہو جاتے تو 152 جانوں کی قدر ختم ہو جاتی۔ یہ فیصلہ باقی متاثرہ خاندانوں کے لیے بھی ایک علامت بن گیا کہ انصاف کی تلاش ممکن ہے۔
گوہر رحمان اس مقدمے کا حصہ نہیں تھے۔ مگر جب انہوں نے فیصلے کے بارے میں سنا تو ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی رقم میرے بیٹے کو واپس نہیں لا سکتی۔ مگر یہ جان کر کچھ سکون ملا کہ اس کی جان رائیگاں نہیں گئی۔ اس سانحے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکا۔
آج بھی گوہر رحمان کراچی میں اپنی ریڑھی لگاتے ہیں۔ عرفان کی یاد ہر لمحہ ان کے ساتھ رہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس حادثے کے بعد نظام میں کوئی بہتری آ جائے اور کسی اور باپ کو یہ دکھ نہ سہنا پڑے تو یہی اصل انصاف ہوگا۔
ایئر بلیو کی پرواز ای ڈی 202 کا حادثہ ایک المناک سانحہ تھا۔ مگر اس کے بعد کی قانونی جدوجہد نے اسے ایک مثال بنا دیا۔ یہ کہانی غم۔ صبر اور انصاف کی تلاش کی کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جو آج بھی پاکستان کی تاریخ میں زندہ ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment