Featured
- Get link
- X
- Other Apps
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے استعمال شدہ موبائل فون پر ٹیکس میں کمی کی تجویز زیر غور
اسلام آباد میں ہونے والی تازہ پیش رفت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک اہم سہولت کی امید دی ہے۔ موبائل فون ساتھ لانے والے اوورسیز پاکستانی طویل عرصے سے زیادہ ٹیکس کے مسئلے کی شکایت کرتے رہے ہیں۔ اب ایف بی آر حکام نے واضح کیا ہے کہ اس مسئلے پر رپورٹ تیار ہو رہی ہے اور ٹیکس میں نمایاں کمی کا امکان موجود ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اس معاملے پر تفصیل کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں مختلف اداروں کے سربراہان نے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے اجلاس کو بتایا کہ بیرون ملک سے لائے جانے والے استعمال شدہ موبائل فون پر ٹیکس کم کرنے کے امکانات زیر غور ہیں۔ ان کے مطابق اوورسیز پاکستانی اکثر پرانے یا کم قیمت فون اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ ان فونز کی اصل مالیت زیادہ نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود ٹیکس شرحیں ایسی تھیں جنہیں بیرون ملک پاکستانیوں نے بار بار غیر مناسب قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایف بی آر اس پورے معاملے کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم ویلیو استعمال شدہ موبائل فون پر ڈیوٹی میں کمی سب سے اہم تجویز ہے۔ اس تجویز پر حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے مختلف شعبوں کی آراء حاصل کی جا رہی ہیں۔ مارچ تک مکمل رپورٹ تیار کر لی جائے گی۔ اس کے بعد وزارت خزانہ اس پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
اجلاس میں چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بھی موبائل فون مارکیٹ کے تازہ حالات کمیٹی کے سامنے رکھے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اب مقامی سطح پر موبائل فون کی تیاری بہت بڑھ چکی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں 94 فیصد موبائل فون مقامی طور پر بن رہے ہیں۔ صرف 6 فیصد موبائل فون درآمد کیے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مقامی موبائل انڈسٹری مضبوط ہو رہی ہے۔ مقامی سطح پر تیار کئے گئے فونز پر ٹیکس کی شرح کم ہے۔ اس وقت یہ شرح پانچ سے چھ فیصد ہے۔ اس کے برعکس درآمدی موبائل فون پر ٹیکس کئی گنا زیادہ ہے۔ اسی فرق کی وجہ سے بیرون ملک سے فون لانے والوں پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔
ممبر کسٹمز شکیل شاہ نے اجلاس میں ٹیکس ریونیو کے اعداد وشمار بھی پیش کئے۔ ان کے مطابق حالیہ مالی سال میں موبائل فون کی خریداری سے مجموعی طور پر 82 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ درآمدی موبائل فون سے 18 ارب روپے ریونیو ملا۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں موبائل فون کی سب سے بڑی کھپت مقامی مینوفیکچرنگ کے ذریعے پوری ہو رہی ہے۔ درآمدات کم ہیں۔ اسی لئے درآمدی فون پر زیادہ ٹیکس لگانے کا مقصد ریونیو بڑھانا نہیں ہوتا۔ اصل مقصد مقامی صنعت کو تحفظ دینا ہوتا ہے۔ تاہم بیرون ملک سے آنے والے پاکستانی جب ذاتی استعمال کے لئے ایک آدھ فون لاتے ہیں تو وہ اسی سخت ٹیکس سلیب میں آ جاتے ہیں۔ کمیٹی میں یہی نکتہ زیر بحث آیا کہ ذاتی استعمال کے پرانے یا کم مالیت والے فون پر اتنی زیادہ ڈیوٹی کا کوئی جواز موجود نہیں۔
اجلاس میں اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت دینا ضروری ہے۔ یہ پاکستانی ہر سال ملک کو اربوں ڈالر ترسیلات بھجواتے ہیں۔ ریاست کو ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں۔ کمیٹی کے کئی اراکین نے کہا کہ پرانے فون پر ٹیکس میں کمی سے ریاست کو نقصان نہیں ہو گا۔ زیادہ تر پرانے موبائل فون کم قیمت ہوتے ہیں۔ ان پر زیادہ ٹیکس لگانا لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ اس لئے ٹیکس شرح میں مناسب کمی مسئلے کا بہترین حل ہے۔
اجلاس میں یہ بھی تجویز سامنے آئی کہ ذاتی استعمال کے لئے لائے گئے فون کے لئے الگ کیٹیگری بنائی جائے۔ اس کیٹیگری میں کم ٹیکس رکھا جائے۔ اس سے نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت ملے گی بلکہ کسٹمز حکام کے لئے عملدرآمد بھی آسان ہوگا۔ اب تک کئی بار ایسی شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ ایئرپورٹ پر لوگ ٹیکس کے حساب سے پریشان ہوتے ہیں۔ واضح طریقہ کار رکھنے سے یہ مسئلہ کم ہوسکتا ہے۔
مارچ میں تیار ہونے والی رپورٹ سے آئندہ پالیسی کا تعین ہو گا۔ کمیٹی کے ارکان نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ایف بی آر ٹیکس میں کمی کی سفارش کرے گا۔ اس بارے میں حتمی فیصلہ وزارت خزانہ کرے گی۔ بڑے پیمانے پر مقامی صنعت کو نقصان پہنچائے بغیر اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت دینے کا راستہ نکالا جائے گا۔ ایف بی آر کے مطابق استعمال شدہ فون کی عالمی قیمتیں کم ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے ان پر زیادہ ڈیوٹی کا بوجھ منصفانہ نہیں رہتا۔
موبائل فون مارکیٹ سے حاصل ہونے والے ٹیکس اعداد و شمار بھی اہم ہیں۔ 82 ارب روپے کا مجموعی ریونیو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ موبائل فون ملک میں کتنا بڑا سیکٹر بن چکا ہے۔ مقامی مینوفیکچرنگ نے درآمدی فون کی طلب کم کر دی ہے۔ اسی لئے درآمدی فون کے ٹیکس کا دوبارہ جائزہ لینا ضروری ہو گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ، مقامی پیداوار میں بہتری اور لوگوں کی روزمرہ ضروریات کے مطابق پالیسیاں بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
ایف بی آر کی مجوزہ رپورٹ کے بعد واضح ہوگا کہ ڈیوٹی میں کتنی کمی کی جائے گی۔ امکان یہی ہے کہ پرانے فون پر ٹیکس میں نمایاں نرمی لائی جائے گی۔ اس سے بیرون ملک پاکستانیوں کا اعتماد بڑھے گا۔ بہتر پالیسیوں سے لوگوں کو آسانی ملے گی اور حکومتی اداروں پر بھی دباؤ کم ہوگا۔
یہ معاملہ آئندہ چند ماہ میں واضح ہو جائے گا۔ اوورسیز پاکستانی اس حوالے سے مثبت فیصلے کی امید کر رہے ہیں۔ حکومت کے پاس اعداد و شمار بھی موجود ہیں اور ضرورت بھی واضح ہے۔ پالیسی میں مناسب تبدیلی اس مسئلے کا حل فراہم کر سکتی ہے۔
Comments
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Good news
ReplyDeleteBht achi baat hai
ReplyDeleteNice
ReplyDelete