یہ واقعہ بھارتی ریاست بہار کے ضلع بودھگیا میں پیش آیا۔ شادی کی یہ تقریب شروع میں عام تقاریب کی طرح پرسکون چل رہی تھی۔ رسومات مکمل ہو چکی تھیں۔ مہمان کھانا کھا رہے تھے۔ دلہا دلہن کے اہل خانہ مختلف کاموں میں مصروف تھے۔ پنڈال میں موسیقی چل رہی تھی۔ لوگ خوشی میں ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحوں بعد ماحول مکمل طور پر بدل جائے گا۔
بھارتی میڈیا نے بتایا کہ دلہن کے والد نے ایک اہم دعویٰ بھی کیا۔ ان کے مطابق دلہے کے خاندان نے جہیز میں اضافی دو لاکھ روپے کی درخواست کی تھی۔ دلہن کے والد نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے پہلے ہی طے شدہ سامان دیا جا رہا تھا۔ وہ اضافی رقم دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ دلہن کے والد کا دعویٰ ہے کہ دلہے والوں نے اسی وجہ سے ناراضی رکھی۔ ان کے مطابق رسگلے کا بہانہ اسی ناراضی کی توسیع تھی۔ انہوں نے کہا کہ دلہے والوں نے پہلے سے فیصلہ کیا ہوا تھا کہ وہ شادی کے دوران کوئی جھگڑا کھڑا کریں گے تاکہ دباؤ ڈالا جا سکے یا تقریب کو خراب کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق رسگلے کم ہونے کی بات سامنے آتے ہی دلہن کے خاندان نے امتیاز پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ مٹھائی کم تھی۔ پنڈال کے عملے نے سمجھانے کی کوشش کی لیکن صورتحال سنبھل نہ سکی۔ آغاز میں معاملہ زبانی بحث تک محدود تھا۔ چند لمحوں میں آوازیں بلند ہونے لگیں۔ دونوں خاندان ایک دوسرے پر الزام لگانے لگے۔ ایک شخص نے سخت جملے استعمال کیے۔ اس کے بعد ماحول مزید خراب ہو گیا۔ بیچ بچاؤ کی کوشش کی گئی لیکن کسی نے سنجیدگی سے بات نہ سنی۔
جھگڑا بڑھتے ہی دھکم پیل شروع ہو گئی۔ کچھ افراد نے گھونسوں کا استعمال کیا۔ کچھ نے تھپڑ مارے۔ چند نوجوان غصے میں کرسیاں اٹھا کر ایک دوسرے پر پھینکنے لگے۔ پنڈال میں لگے میز الٹ گئیں۔ لائٹس ہلنے لگیں۔ کھانا بکھر گیا۔ کئی خواتین خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئیں۔ کچھ مہمانوں نے موبائل نکال لیے۔ ویڈیو بنائی۔ یہی ویڈیوز بعد میں سوشل میڈیا پر پھیل گئیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شادی کا پورا ماحول جنگ کے منظر میں بدل گیا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو زور سے دھکیل رہے تھے۔ کچھ افراد زمین پر گر پڑے تھے۔ دوسرے لوگ انہیں اٹھانے کے بجائے مارپیٹ میں شامل ہو گئے۔ چند بزرگوں نے بار بار چیخ کر لوگوں کو روکنے کی کوشش کی۔ کچھ نوجوانوں نے درمیان میں آ کر لوگوں کو پیچھے کرنے کی کوشش کی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔ کچھ کے چہروں پر خراشیں تھیں۔ کچھ کے ہاتھ اور بازو زخمی تھے۔ دو افراد کو شدید چوٹ لگی جنہیں فوری طور پر باہر نکالا گیا۔
پولیس کو اطلاع دی گئی۔ اہلکار کچھ وقت بعد موقع پر پہنچے۔ اس وقت تک جھگڑا ختم ہو چکا تھا۔ پولیس نے دونوں خاندانوں سے بات کی۔ دلہن کے والد نے وہی بیان دہرایا کہ جہیز میں اضافی رقم کا مطالبہ تنازع کی اصل وجہ تھی۔ جبکہ دلہے کے خاندان نے اس دعویٰ کو غلط قرار دیا۔ دونوں خاندان اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ پولیس نے دونوں فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ مزید بات نہ بڑھائیں۔ واقعہ کا اندراج کیا گیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق اس علاقے میں شادیوں میں چھوٹے تنازعات کبھی کبھی ہوتے ہیں۔ لیکن اس سطح کی بدنظمی کم دیکھی گئی ہے۔ کچھ افراد نے کہا کہ مٹھائی کی کمی معمولی مسئلہ تھا۔ اسے بات چیت سے حل کیا جا سکتا تھا۔ کچھ نے دلہن کے والد کے دعوے پر بھی بحث کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر جہیز کا مسئلہ پہلے سے موجود تھا تو اسے الگ طریقے سے حل کیا جانا چاہیے تھا۔ شادی کے دن اس طرح کی حرکت سے پورا ماحول خراب ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی لوگ دو حصوں میں تقسیم نظر آئے۔ کچھ افراد نے دلہے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اضافی جہیز کا مطالبہ جائز نہیں تھا۔ کچھ نے کہا کہ دونوں خاندان جذباتی ہو گئے تھے۔ کچھ نے کہا کہ انتظامیہ کو مٹھائی کی مناسب مقدار رکھنی چاہیے تھی تاکہ تنازع کا موقع نہ ملتا۔
تقریب کچھ دیر بعد دوبارہ شروع ہوئی۔ دلہا دلہن کو الگ جگہ لے جایا گیا تاکہ وہ خوفزدہ نہ ہوں۔ بعد میں نکاح اور رخصتی کی رسم مکمل کی گئی۔ مگر زیادہ تر مہمانوں کی گفتگو یہی تھی کہ رسگلے جیسے مسئلے نے پوری شادی کو خراب کر دیا۔ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے واقعات سماج میں بڑھتی بے صبری اور عدم برداشت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی مثال بن گیا کہ اگر کوئی مسئلہ وقت پر اور سمجھداری سے حل نہ کیا جائے تو وہ بہت بڑا تنازع بن سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment