Skip to main content

Featured

Quantum Algorithms: The Real Power Behind Quantum Computing

       Quantum Algorithms: The Real Power Behind Quantum Computing Most people think quantum computing is still far away. Many believe it will take 10 or more years before it becomes useful. That idea is not fully correct. Some parts of quantum computing already exist and are being used in research and early applications. The real strength of this technology comes from something called quantum algorithms. If you want to understand quantum computing, you need to understand quantum algorithms. They are the methods that tell a quantum computer how to solve problems. Without algorithms, even the most powerful machine cannot do anything useful. This article explains quantum algorithms in a clear and simple way. You will learn what they are, how they work, and where they are used in real life. What Is an Algorithm An algorithm is a set of steps used to solve a problem. For example: Searching for a name in a list Sorting numbers Solving equations Every computer uses algorit...

نابالغ بیٹے کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے پر والد کو تین سالہ قید کی سزا، آگاہی مہم چلانے کا بھی حکم

             
عدالت کا نابالغ ڈرائیونگ پر والد کو سزا دینے کا فیصلہ

سرینگر میں سپیشل موبائل مجسٹریٹ شبیر احمد ملک نے ایک اہم اور مثال بننے والا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ایک شخص، مشتاق احمد، کو اپنے نابالغ بیٹے کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے پر تین سال قید اور پچیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے اس پر دو لاکھ روپے کا سکیورٹی بانڈ بھی لازم قرار دیا تاکہ وہ جیل میں بہتر برتاؤ یقینی بنائے۔ یہ فیصلہ اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ کم عمر ڈرائیونگ کے مسئلے نے پورے کشمیر میں سڑک حادثات کی صورت میں سنگین نتائج پیدا کیے ہیں۔


عدالت میں جب جج نے پوچھا کہ کیا واقعی انہوں نے اپنے اٹھارہ سال سے کم عمر بیٹے کو گاڑی دی، تو مشتاق احمد نے اقبال جرم کر لیا۔ عدالت نے کہا کہ اس جرم کی ذمہ داری براہ راست والد پر آتی ہے۔ انہوں نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس سے دوسروں کی جان خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ عدالت کے مطابق کم عمر افراد گاڑی چلاتے وقت رفتار، ذمہ داری اور احتیاط کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، اس لیے ان کے ہاتھ میں گاڑی دینا شدید خطرناک ثابت ہوتا ہے۔


عدالت نے اپنے فیصلے میں والدین، گاڑی مالکوں اور پورے معاشرے کو مخاطب کیا۔ عدالت نے کہا کہ کم عمر ڈرائیونگ صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں، یہ ایک سماجی مسئلہ ہے۔ عدالت نے محکمہ تعلیم کو ہدایت دی کہ اس فیصلے کی کاپیاں تمام سکولوں میں تقسیم کی جائیں۔ وہاں بیداری مہم چلائی جائے تاکہ بچوں کو شروع سے ہی سمجھایا جا سکے کہ گاڑی چلانا صرف ایک سہولت نہیں، یہ ایک ذمہ داری ہے۔


عدالت نے سڑک حادثات کے بڑے اعدادوشمار بھی سامنے رکھے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پورے انڈیا میں آٹھ لاکھ دس ہزار نو سو تیرہ افراد سڑک حادثوں کا شکار ہو کر جان سے گئے۔ ان میں بڑی تعداد ایسے حادثوں کی تھی جن میں ڈرائیور کم عمر تھے۔ کشمیر میں اس دوران تقریباً پانچ ہزار افراد سڑک حادثوں میں ہلاک ہوئے۔ صرف دو ہزار تئیس میں آٹھ سو ترانوے افراد مارے گئے اور چالیس ہزار زخمی ہوئے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مسئلہ چھوٹا نہیں ہے۔


عدالت نے کہا کہ روڈ سیفٹی صرف قانون کے سہارے قائم نہیں ہو سکتی۔ احتیاط اور ذمہ داری معاشرے کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ جب تک لوگ خود یہ نہ سمجھیں کہ نابالغ کو گاڑی دینا غلط ہے، حادثے کم نہیں ہوں گے۔ عدالت نے والدین کو خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ محبت اپنی جگہ، لیکن گاڑی دینا ایک ایسا فیصلہ ہے جو دوسروں کی جان خطرے میں ڈالتا ہے۔


عدالت نے پچھلے برس پولیس کی اس مہم کا بھی ذکر کیا جس میں پیٹرول پمپوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ نابالغ ڈرائیوروں کو ایندھن نہ دیں۔ یہ مہم چند دن بعد ختم ہو گئی۔ عدالت نے کہا کہ اگر ایسی مہمات تسلسل کے ساتھ چلائی جائیں تو کم عمر ڈرائیونگ میں واضح کمی آسکتی ہے۔ مہم کے ختم ہونے سے صورتحال دوبارہ خراب ہو گئی۔


فیصلے میں کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد بھی بیان کی گئی۔ کشمیر میں بائیس لاکھ چھھیاسٹھ ہزار چھوٹی اور بڑی گاڑیاں رجسٹر ہیں۔ پہاڑی علاقے، خراب سڑکیں اور گاڑیوں کی بڑی تعداد پہلے ہی حادثات کا سبب بنتی رہی ہے۔ اس ماحول میں اگر کم عمر ڈرائیونگ بھی شامل ہو جائے تو خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ حادثوں میں اضافہ ان تمام عوامل کی وجہ سے ہو رہا ہے، خاص طور پر مائنر ڈرائیونگ کی وجہ سے۔


عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پالیسی بنانا اور قانون کا نفاذ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن سماج اور والدین کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔ اٹھارہ سال سے پہلے گاڑی چلانا قانونا جرم ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ نابالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو گاڑی نہ دیں۔ بچوں کو مناسب تربیت اٹھارہ سال کے بعد دی جائے۔ لائسنس ملنے کے بعد ہی انہیں گاڑی چلانے کی اجازت دی جائے۔


عدالت نے کہا کہ جب آپ نابالغ بچے کے ہاتھ میں گاڑی دیتے ہیں تو وہ سکول، ہسپتال اور بھیڑ والی جگہوں پر تیز رفتاری دکھاتا ہے۔ یہ رویہ حادثات کا سبب بنتا ہے۔ اعدادوشمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ حادثوں میں نمایاں اضافہ کم عمر ڈرائیونگ کی وجہ سے ہوا۔ عدالت نے اس صورتحال کو ایک سماجی مسئلہ قرار دیا جسے ختم کرنا ضروری ہے۔


عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ محفوظ سڑکیں اسی وقت ممکن ہیں جب لوگ خود ذمہ داری کا رویہ اپنائیں۔ قانون موجود ہے، لیکن عمل تب ہی ہوگا جب لوگ خود اس کے مطابق چلیں۔ والدین کو سمجھنا چاہیے کہ کم عمر بچے جذباتی ہوتے ہیں، وہ خطرہ نہیں سمجھتے، اس لیے ان کے ہاتھ میں گاڑی دینا خود والدین کی غلطی ہے۔


عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا مقصد صرف ایک فرد کو سزا دینا نہیں۔ مقصد معاشرے کو ایک پیغام دینا ہے کہ کم عمر ڈرائیونگ کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے امید ظاہر کی کہ یہ فیصلہ ایک مثال بنے گا اور والدین آئندہ زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔


فیصلے کے اختتام میں عدالت نے کہا کہ قانون کے ساتھ ساتھ شعور بھی ضروری ہے۔ اگر معاشرہ خود ذمہ داری نہیں لے گا تو قوانین کمزور پڑ جائیں گے۔ عدالت نے کہا کہ جانوں کا تحفظ سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر لوگ قانون کی پابندی کریں، بچوں کو مناسب تربیت دیں اور اٹھارہ سال کے بعد لائسنس کے ساتھ گاڑی چلانے دیں تو حادثات میں کمی آسکتی ہے۔


یہ فیصلہ کشمیر میں کم عمر ڈرائیونگ کے خلاف ایک مضبوط قدم سمجھا جا رہا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر معاشرہ اپنا کردار ادا کرے تو سڑکیں محفوظ بنائی جا سکتی ہیں۔ والدین، اساتذہ، ادارے اور حکومت اگر مل کر کام کریں تو کم عمر ڈرائیونگ کی یہ مشکل ختم ہو سکتی ہے۔

Comments