Featured
- Get link
- X
- Other Apps
جھارکھنڈ کے جنگلات میں خوف، ایک ہاتھی اور 20 جانیں
بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے جنگلات میں حالیہ دنوں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے مقامی آبادی، حکام اور ماہرینِ ماحولیات سب کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ گھنے درختوں، خاموش وادیوں اور قدیم قدرتی راستوں پر مشتمل یہ خطہ اچانک خوف اور بے یقینی کی علامت بن گیا ہے۔ دیہات میں شام ڈھلتے ہی سناٹا چھا جاتا ہے اور لوگ اپنے گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ وجہ ایک جنگلی ہاتھی ہے جس کی موجودگی نے پورے علاقے کا معمول درہم برہم کر دیا ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک جانور کی جارحانہ سرگرمی نہیں بلکہ انسان اور فطرت کے بگڑتے ہوئے تعلق کی ایک سنگین مثال بن چکا ہے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق یکم جنوری سے نو جنوری کے درمیان جھارکھنڈ کے مغربی اضلاع میں کم از کم 20 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ تمام اموات ایک ہی نر ہاتھی سے منسوب کی جا رہی ہیں جو جنگلات اور آبادیوں کے درمیان گھوم رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اتنے کم عرصے میں اتنی زیادہ ہلاکتیں ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے، جس نے انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ متاثرہ علاقے میں خوف کی فضا اس قدر شدید ہے کہ لوگ کھیتوں میں جانے اور روزمرہ کی سرگرمیاں انجام دینے سے بھی گھبرا رہے ہیں۔
جھارکھنڈ ایشیا کے ان علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرتی جنگلات اب بھی بڑی حد تک موجود ہیں۔ یہ جنگلات صدیوں سے ہاتھیوں، تیندوؤں اور دیگر جنگلی جانوروں کا مسکن رہے ہیں۔ ہاتھی خاص طور پر طویل فاصلے طے کرنے والے جانور ہیں اور ان کے لیے مخصوص گزرگاہیں ہوتی ہیں جنہیں ہاتھی کاریڈور کہا جاتا ہے۔ انہی راستوں کے ذریعے وہ خوراک اور پانی کی تلاش میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک جاتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب انسانی آبادی انہی گزرگاہوں کے قریب تیزی سے پھیلنے لگی۔
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق جنگلات کی کٹائی، کان کنی، سڑکوں کی تعمیر اور زرعی زمین میں اضافے نے ہاتھیوں کے قدرتی راستوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ جب یہ راستے بند یا محدود ہو جاتے ہیں تو ہاتھی مجبوراً انسانی آبادیوں کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے میں تصادم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ جھارکھنڈ میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اسی دباؤ کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں ایک نر ہاتھی مسلسل انسانی بستیوں کے قریب دیکھا گیا اور ہر سامنا ایک سانحے میں بدلتا چلا گیا۔
حکام کے مطابق اس ہاتھی کو قابو میں کرنے کے لیے 100 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ جنگلاتی عملہ، پولیس اور خصوصی ریسکیو ٹیمیں مشترکہ طور پر آپریشن میں مصروف ہیں۔ ڈرون کیمروں، تھرمل سینسرز اور مقامی لوگوں کی اطلاعات کی مدد سے ہاتھی کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود گھنے جنگلات، دشوار گزار زمین اور ہاتھی کی تیز رفتار نقل و حرکت نے اس کام کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
ڈویژنل فاسٹ افسر کلدیپ مینا کے مطابق یہ صورتحال معمول سے ہٹ کر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس سے قبل بھی انسان اور ہاتھی کے درمیان تصادم ہوتے رہے ہیں، لیکن ایک ہی ہاتھی سے جڑی اتنی زیادہ اموات کا واقعہ پہلی بار سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کی اولین ترجیح مزید جانی نقصان کو روکنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت پورے علاقے میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور لوگوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مقامی آبادی کے لیے یہ دن نہایت مشکل ثابت ہو رہے ہیں۔ کئی دیہات میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں اور کسانوں نے اپنی فصلوں کی دیکھ بھال ترک کر دی ہے۔ رات کے وقت لوگ آگ جلا کر اور شور مچا کر ہاتھی کو دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ طریقے ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ کچھ خاندانوں نے عارضی طور پر اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لے لی ہے۔ خوف اور غم نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھی عام طور پر بلا وجہ انسانوں پر حملہ نہیں کرتے۔ اکثر ایسے واقعات اس وقت پیش آتے ہیں جب جانور خود کو خطرے میں محسوس کرتا ہے یا اس کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ زخمی ہونا، خوراک کی کمی یا اچانک سامنا بھی ہاتھی کے جارحانہ رویے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کیس میں یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہاتھی کسی پرانے صدمے یا دباؤ کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کا رویہ غیر معمولی حد تک پرتشدد ہو گیا ہے۔
حکومت اور جنگلاتی ادارے اس مسئلے کو صرف ایک ہاتھی کو پکڑنے تک محدود نہیں دیکھ رہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی علامت ہے۔ اگر جنگلات کی کٹائی اور غیر منصوبہ بند ترقی کا یہی سلسلہ جاری رہا تو ایسے واقعات
مستقبل میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔ انسان اور جنگلی حیات کے درمیان توازن بگڑنے کا نتیجہ ہمیشہ نقصان کی صورت میں نکلتا ہے، چاہے وہ انسانی جانوں کا ہو یا جانوروں کے وجود کا۔
اسی لیے ماہرین طویل المدتی حل پر زور دے رہے ہیں۔ ہاتھی کاریڈورز کی بحالی، جنگلات کے تحفظ، مقامی آبادی کی آگاہی اور جدید وارننگ سسٹمز کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ کچھ علاقوں میں پہلے ہی ایسے نظام متعارف کرائے جا چکے ہیں جہاں ہاتھیوں کی نقل و حرکت کا بروقت پتا لگا کر لوگوں کو خبردار کر دیا جاتا ہے۔ جھارکھنڈ میں بھی اس طرز کے اقدامات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
فی الحال حکام کی توجہ اس مخصوص ہاتھی کو محفوظ طریقے سے قابو میں کرنے پر مرکوز ہے۔ کلدیپ مینا کے مطابق کوشش یہ ہے کہ ہاتھی کو بے ہوش کر کے کسی محفوظ جنگلی علاقے میں منتقل کیا جائے جہاں وہ انسانوں سے دور رہ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہاتھی کو مارنا آخری اور ناپسندیدہ آپشن ہے، کیونکہ مقصد مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہے نہ کہ مزید ماحولیاتی نقصان کرنا۔
یہ واقعہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ ترقی اور قدرت کے درمیان توازن قائم رکھنا کس قدر ضروری ہے۔ جھارکھنڈ کے جنگلات میں بہنے والا یہ خون صرف ایک جانور کی کہانی نہیں بلکہ انسان کے فیصلوں کا نتیجہ بھی ہے۔ اگر بروقت سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تصادم مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اور جنگلی حیات کے لیے مشترکہ اور محفوظ راستے تلاش کیے جائیں، تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی دوبارہ قائم ہو سکے۔
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment