Featured
- Get link
- X
- Other Apps
افغانستان سے تجارت بند، پاکستان کو ماہانہ 80 ارب روپے کا نقصان: صدر لاہور چیمبر
افغانستان سے تجارت بند ہونے سے پاکستان کو ہر ماہ تقریباً 80 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ بات صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ایک اہم بیان میں کہی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال صرف تاجروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عام آدمی، صنعت، روزگار اور قومی معیشت تک پھیل چکے ہیں۔
صدر لاہور چیمبر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قدرتی تجارتی شراکت دار ہیں۔ سرحدی راستوں کی بندش، سخت پالیسیوں اور غیر یقینی حالات نے اس تجارت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ برآمدات میں کمی آ رہی ہے اور درآمدی چین بھی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان پاکستان کی اہم برآمدی منڈی ہے۔ سیمنٹ، آٹا، چینی، چاول، ادویات، سبزیاں اور دیگر اشیاء بڑی مقدار میں افغانستان جاتی تھیں۔ تجارت بند ہونے سے یہ تمام شعبے دباؤ میں ہیں۔ فیکٹریاں سست روی کا شکار ہیں۔ مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں۔ یہ نقصان کاغذی نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے۔
صدر لاہور چیمبر کے مطابق ماہانہ 80 ارب روپے کا نقصان سالانہ بنیاد پر کھربوں روپے بنتا ہے۔ اس سے حکومت کی ٹیکس آمدن کم ہو رہی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ آپ کی روزمرہ زندگی پر اس کے اثرات مہنگائی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرحدی تجارت بند ہونے سے اسمگلنگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب قانونی راستے بند ہوں تو غیر قانونی راستے کھل جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ریاست کو نقصان ہوتا ہے بلکہ مقامی صنعت بھی متاثر ہوتی ہے۔ آپ کا مقامی کاروبار غیر معیاری اور غیر قانونی اشیاء کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے۔
صدر لاہور چیمبر نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت سیاسی مسائل سے الگ رکھنی چاہیے۔ دنیا بھر میں ہمسایہ ممالک تجارت کے ذریعے تعلقات بہتر کرتے ہیں۔ آپ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ تجارت اعتماد پیدا کرتی ہے اور تنازعات کم کرتی ہے۔ پاکستان کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے مسائل نے بھی حالات خراب کیے ہیں۔ کسٹمز کے پیچیدہ نظام، بارڈر پر تاخیر، اور غیر واضح پالیسیوں نے تاجروں کا اعتماد ختم کیا ہے۔ ایک کنٹینر دنوں اور ہفتوں سرحد پر کھڑا رہتا ہے۔ اس کا براہ راست نقصان تاجر کو ہوتا ہے اور بالآخر صارف کو قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
صدر لاہور چیمبر کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت بند ہونے سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں کی معیشت بڑی حد تک سرحدی تجارت پر انحصار کرتی ہے۔ آپ ان علاقوں میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی مسئلہ بھی بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے بحال کیے جائیں۔ بارڈر مینجمنٹ کو آسان بنایا جائے۔ ویزا پالیسی میں نرمی لائی جائے۔ تاجر کو تحفظ دیا جائے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ کاروبار کر سکے۔ اگر پالیسی واضح اور مستقل ہو تو تجارت خود بخود بحال ہو جاتی ہے۔
صدر لاہور چیمبر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو علاقائی تجارت پر توجہ دینا ہوگی۔ وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے افغانستان ایک قدرتی گیٹ وے ہے۔ اگر یہ راستہ بند رہا تو پاکستان علاقائی مارکیٹ سے کٹ جائے گا۔ آپ کی معیشت تنہا ہو جائے گی اور ترقی کے مواقع ضائع ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کئی پاکستانی تاجر افغانستان کی منڈی سے نکل چکے ہیں۔ ان کی جگہ دوسرے ممالک نے لے لی ہے۔ ایک بار منڈی ہاتھ سے نکل جائے تو واپس آنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ نقصان وقتی نہیں بلکہ طویل المدتی ہے۔ آپ کو اس کی قیمت آنے والے برسوں میں بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
آخر میں صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ تجارت دشمنی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے عملی فیصلے کرنا ہوں گے۔ افغانستان کے ساتھ تجارت بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ معیشت مضبوط ہو، روزگار بڑھے اور مہنگائی کم ہو تو تجارت کے دروازے کھولنا ہوں گے۔ یہ فیصلہ تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment