Featured
- Get link
- X
- Other Apps
گرے گورال کی جان کی قیمت۔ ٹرافی ہنٹنگ کے نام پر قدرتی ماحول کو ناقابل تلافی نقصان
پشاور این این آئی۔ خیبرپختونخوا میں ایک امریکی شہری کی جانب سے گرے گورال کے شکار کی خبر نے ایک نیا اور سنگین ماحولیاتی بحث چھیڑ دی ہے۔ ضلع تورغر میں امریکی شہری ڈیرون جیمز ملان نے محکمہ جنگلی حیات کے نان ایکسپورٹیبل ٹرافی ہنٹنگ پرمٹ پر گرے گورال کا شکار کیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ تاہم ماہرین ماحولیات، سماجی کارکنان اور شہری حلقے اس اقدام کو قدرتی ماحول کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق گرے گورال کے ایک شکار سے 54 ہزار 500 امریکی ڈالرز کی آمدن ہوئی۔ مجموعی طور پر گرے گورال کے 6 نان ایکسپورٹیبل پرمٹس فروخت کیے گئے جن سے 3 لاکھ 98 ہزار 500 امریکی ڈالرز حاصل ہوئے۔ محکمے کا کہنا ہے کہ اس رقم کا 80 فیصد کنزرویشن کمیٹی کے اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا تاکہ مقامی آبادی کی ترقی اور جنگلی حیات کے تحفظ پر خرچ کیا جا سکے۔
حکومتی دعوے کے باوجود یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کسی نایاب جانور کی جان لے کر تحفظ کیسے ممکن ہے۔ گرے گورال ایک حساس اور محدود آبادی رکھنے والا پہاڑی جانور ہے جو پہلے ہی مسکن کی تباہی، غیر قانونی شکار اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے جانور کو ٹرافی ہنٹنگ کے نام پر مارنا قدرتی توازن کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر جانور ماحولیاتی نظام میں ایک کردار ادا کرتا ہے۔ گرے گورال جیسے چرنے والے جانور پودوں کی افزائش، مٹی کے توازن اور دیگر جنگلی حیات کی بقا میں اہم ہوتے ہیں۔ جب ایسے جانور کو ختم کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک جانور تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ کو آمدن کا ذریعہ بنا کر پیش کرنا ایک خطرناک سوچ ہے۔ پیسے کے بدلے جانور کی جان لینا اخلاقی طور پر بھی قابل اعتراض ہے۔ دنیا بھر میں اب جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے غیر مہلک طریقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے جن میں ایکو ٹورازم، وائلڈ لائف فوٹوگرافی اور کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن شامل ہیں۔ ان طریقوں سے نہ صرف جانور محفوظ رہتے ہیں بلکہ مقامی لوگوں کو بھی مستقل روزگار ملتا ہے۔
مقامی آبادی کے کچھ افراد بھی اس پالیسی سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقتی مالی فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن طویل مدت میں اس کے نقصانات زیادہ ہیں۔ اگر نایاب جانور ختم ہو گئے تو نہ سیاحت بچے گی اور نہ ہی قدرتی حسن۔ آنے والی نسلوں کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔
ماہرین ماحولیات یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹرافی ہنٹنگ کے اعداد و شمار اور نگرانی کے نظام پر شفافیت ضروری ہے۔ اکثر یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایک جانور کے شکار کی اجازت دے کر مزید غیر قانونی شکار کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ دور دراز علاقوں میں مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث قوانین پر عملدرآمد ایک بڑا سوال بن جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان پہلے ہی جنگلی حیات کے شدید بحران کا شکار ہے۔ کئی اقسام ناپید ہو چکی ہیں اور کئی خطرے سے دوچار ہیں۔ ایسے میں کسی بھی نایاب جانور کے شکار کی اجازت دینا قومی مفاد کے خلاف سمجھا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ قدرت کو قربان کر دیا جائے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ٹرافی ہنٹنگ پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔ کئی ممالک نے نایاب جانوروں کے شکار پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ وہاں تحفظ کا مطلب جان بچانا سمجھا جاتا ہے نہ کہ قیمت لگا کر جان لینا۔ پاکستان کو بھی اسی سمت میں سوچنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ ایک مثال بن سکتی ہے۔ اگر آج گرے گورال کا شکار جائز قرار دیا گیا تو کل کسی اور نایاب جانور کی باری آ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور نان ایکسپورٹیبل ٹرافی ہنٹنگ جیسے اقدامات کو روکا جائے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ قدرتی ماحول انسان کی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔ جانوروں کی جان لینا کسی بھی صورت اچھی بات نہیں۔ حقیقی ترقی وہی ہے جس میں انسان اور فطرت ساتھ ساتھ زندہ رہیں۔ گرے گورال کے شکار کا واقعہ ایک آمدن کی خبر نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی انتباہ ہے جسے نظرانداز کرنا مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment