Featured
- Get link
- X
- Other Apps
موسم سرما میں سندھ کی جھیلوں کا سرد علاقوں کے پرندوں سے آباد ہونا
برف پوش علاقوں میں جمنے والی جھیلیں پرندوں کو سفر پر مجبور کر دیتی ہیں۔
یہ طویل سفر ہزاروں میل پر پھیلا ہوتا ہے۔
منزل ہر سال وہی ہوتی ہے، سندھ کے آبی ذخیرے۔
موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی سائیبیریا، وسطی ایشیا اور دیگر انتہائی سرد ملکوں سے لاکھوں سرد علاقوں کے پرندے سندھ کا رخ کرتے ہیں۔ یہ پرندے طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد ضلع ٹھٹھہ میں واقع کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل اور قریبی آبی ذخائر میں قیام کرتے ہیں۔ یہ جھیلیں ان کے لیے خوراک، تحفظ اور آرام فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹھٹھہ ہر سال سردیوں میں قدرتی حسن کا مرکز بن جاتا ہے۔
ان سرد علاقوں سے آنے والے پرندوں میں فلیمنگو، پیلکن، بطخیں، ہنس، سارس اور دیگر نایاب اقسام شامل ہوتی ہیں۔ یہ پرندے جھیلوں کے صاف پانی اور اردگرد کی دلدلی زمین میں آسانی سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ مچھلیاں، آبی پودے اور چھوٹے کیڑے ان کی بنیادی غذا ہیں۔ قدرتی نظام ان پرندوں کو وہ سب کچھ فراہم کرتا ہے جس کی انہیں طویل قیام کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔
کینجھر جھیل سندھ کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ جھیل نہ صرف ان آنے والے پرندوں بلکہ مقامی آبادی کے لیے بھی اہم ہے۔ یہاں کا پانی پینے اور زرعی استعمال میں آتا ہے۔ سردیوں میں جب پرندے جھیل کے کناروں پر اترتے ہیں تو منظر دیکھنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ صبح کے وقت پرندوں کی آوازیں اور شام کو ان کی واپسی قدرت کی ایک مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔
ہالیجی جھیل بھی عالمی سطح پر اہمیت رکھتی ہے۔ یہ جھیل رامسر کنونشن کے تحت محفوظ آبی ذخائر میں شامل ہے۔ یہاں آنے والے سرد خطوں کے پرندے سندھ کے ماحولیاتی توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ پرندے کیڑے مکوڑوں کی تعداد کو قابو میں رکھتے ہیں اور آبی حیات کے قدرتی چکر کو برقرار رکھتے ہیں۔
ان پرندوں کی آمد سے ٹھٹھہ کے ماحول میں نمایاں تبدیلی آتی ہے۔ ہوا میں زندگی محسوس ہوتی ہے۔ سیاح بڑی تعداد میں ان جھیلوں کا رخ کرتے ہیں۔ فوٹوگرافر، فطرت سے محبت کرنے والے افراد اور طلبہ ان مناظر کو دیکھنے آتے ہیں۔ اس سرگرمی سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ چھوٹے ہوٹل، دکاندار اور کشتی بانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔
سندھ حکومت کا محکمہ جنگلی حیات ان پرندوں کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ شکار پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ جھیلوں کے اطراف گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ وائلڈ لائف اہلکار دن رات نگرانی کرتے ہیں تاکہ کوئی غیر قانونی سرگرمی نہ ہو۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے اور قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
محکمہ جنگلی حیات نے مقامی لوگوں میں آگاہی بھی پیدا کی ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہ پرندے سندھ کا قدرتی اثاثہ ہیں۔ ان کی حفاظت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسکولوں اور کمیونٹی پروگراموں کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کو فطرت کی اہمیت سمجھائی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد آنے والی نسلوں میں تحفظ کا شعور پیدا کرنا ہے۔
ماضی میں سرد علاقوں سے آنے والے پرندوں کو غیر قانونی شکار کا سامنا رہا ہے۔ کچھ علاقوں میں یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا تھا۔ تاہم حالیہ برسوں میں سخت اقدامات کے باعث اس میں واضح کمی آئی ہے۔ اب پرندے زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق ان پرندوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جھیلوں کا ماحولیاتی نظام ابھی زندہ ہے۔ اگر پانی آلودہ ہو یا خوراک کم ہو جائے تو یہ پرندے وہاں رکنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لیے ان کی آمد ایک مثبت اشارہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ حکومت اور عوام دونوں کے لیے ایک ذمہ داری بھی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہے۔ بارشوں کے نظام میں تبدیلی اور پانی کی کمی جھیلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اس صورت حال میں آبی ذخائر کا تحفظ مزید اہم ہو جاتا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ قدرتی حسن متاثر ہو سکتا ہے۔
ٹھٹھہ کی جھیلیں صرف پرندوں کا مسکن نہیں بلکہ سندھ کی ثقافت اور تاریخ کا حصہ بھی ہیں۔ یہ علاقے صدیوں سے قدرت اور انسان کے درمیان توازن کی مثال رہے ہیں۔ سرد علاقوں کے پرندوں کی واپسی اس توازن کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
ہر سال جب یہ پرندے موسم بہار کی آمد پر واپس اپنے علاقوں کی طرف اڑان بھرتے ہیں تو وہ ایک پیغام چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ پیغام فطرت کے احترام اور تحفظ کا ہوتا ہے۔ اگر ہم ان جھیلوں اور پرندوں کی حفاظت کریں تو یہ حسن ہمیشہ قائم رہ سکتا ہے۔
ان پرندوں کی آمد سندھ کے لیے ایک نعمت ہے۔ یہ قدرت کا وہ تحفہ ہے جو چند مہینوں کے لیے ہماری زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ اس نعمت کو محفوظ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment