Skip to main content

Featured

Quantum Algorithms: The Real Power Behind Quantum Computing

       Quantum Algorithms: The Real Power Behind Quantum Computing Most people think quantum computing is still far away. Many believe it will take 10 or more years before it becomes useful. That idea is not fully correct. Some parts of quantum computing already exist and are being used in research and early applications. The real strength of this technology comes from something called quantum algorithms. If you want to understand quantum computing, you need to understand quantum algorithms. They are the methods that tell a quantum computer how to solve problems. Without algorithms, even the most powerful machine cannot do anything useful. This article explains quantum algorithms in a clear and simple way. You will learn what they are, how they work, and where they are used in real life. What Is an Algorithm An algorithm is a set of steps used to solve a problem. For example: Searching for a name in a list Sorting numbers Solving equations Every computer uses algorit...

اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی، سردی کی شدید لہر کے باعث سندھ بھر میں نیا شیڈول نافذ

              

بچے اسکول جاتے ہوئے، سردی کے موسم میں گرم کپڑوں میں ملبوس، اسکول کی عمارت پس منظر میں

سردی کی شدت کے پیش نظر سندھ بھر کے اسکولوں کے اوقات کار میں عارضی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مشاورت کے بعد کیا۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت میں غیر معمولی کمی، صبح کے وقت شدید سردی، اور بچوں کی صحت کو لاحق خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اقدام کو ضروری قرار دیا گیا۔

حالیہ دنوں میں سندھ کے کئی شہروں اور دیہی علاقوں میں سردی کی لہر برقرار ہے۔ خاص طور پر صبح کے اوقات میں درجہ حرارت انتہائی کم ہو رہا ہے جس کے باعث اسکول جانے والے بچوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ والدین، اساتذہ اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ بچوں کی صحت اور حفاظت کو ترجیح دی جائے۔ حکومت سندھ نے ان خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسکولوں کے اوقات میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا۔

جاری کیے گئے فیصلے کے مطابق صوبہ سندھ کے تمام سرکاری اور نجی اسکول آئندہ دو ہفتوں کے لیے صبح 9 بجے کھلیں گے۔ اس فیصلے کا اطلاق پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولز سمیت تمام تعلیمی اداروں پر ہوگا۔ اسکولوں کے کھلنے کے اوقات میں یہ تبدیلی صرف صبح کے وقت کے لیے کی گئی ہے تاکہ بچے شدید سردی میں بہت جلد گھروں سے نکلنے پر مجبور نہ ہوں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسکول بند ہونے کے اوقات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اسکول پہلے سے طے شدہ ٹائم ٹیبل کے مطابق ہی بند ہوں گے تاکہ تعلیمی سرگرمیوں اور نصاب کی تکمیل پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ اس طرح طلبہ کو تعلیمی نقصان سے بچاتے ہوئے ان کی صحت کا بھی خیال رکھا جائے گا۔

محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق یہ فیصلہ عارضی نوعیت کا ہے اور اس کا اطلاق 26 جنوری تک ہوگا۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں تمام تعلیمی اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ نئے اوقات کار پر فوری عمل درآمد کریں۔ ضلعی تعلیمی افسران کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اس فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت بچوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کم عمر بچوں کے لیے سرد موسم میں صبح سویرے اسکول جانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے والدین اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور بچوں کو مقررہ نئے وقت کے مطابق اسکول بھیجیں۔

دوسری جانب والدین کی بڑی تعداد نے حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت شدید سردی کے باعث بچوں کو نزلہ، کھانسی اور دیگر موسمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی سے بچوں کی صحت بہتر رہے گی اور والدین کی پریشانی میں بھی کمی آئے گی۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ موسمی حالات کے مطابق تعلیمی پالیسی میں لچک ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت سندھ کا یہ اقدام ایک مثبت مثال ہے جو دیگر صوبوں کے لیے بھی قابل تقلید ہو سکتا ہے۔ اگر موسم کی شدت برقرار رہی تو مستقبل میں اس فیصلے میں مزید توسیع پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

حکومت سندھ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ اگر سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو بچوں کے مفاد میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ فی الحال 26 جنوری تک کے لیے اسکولوں کے اوقات میں یہ تبدیلی نافذ العمل رہے گی، جس کے بعد حالات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

Comments

Post a Comment