Featured
- Get link
- X
- Other Apps
گانچھے میں شدید سردی کی لہر، دریائے شیوک منجمد، معمولاتِ زندگی شدید متاثر
گانچھے: ضلع گانچھے اس وقت شدید سردی کی غیر معمولی لہر کی لپیٹ میں ہے جس نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ درجہ حرارت مسلسل نقطۂ انجماد سے نیچے رہنے کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ یخ بستہ ہواؤں، برفانی راتوں اور مسلسل جمنے والے موسم نے پورے علاقے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اس سخت موسم کا سب سے نمایاں اثر دریائے شیوک پر پڑا ہے جو کئی مقامات پر مکمل طور پر منجمد ہو چکا ہے۔
دریائے شیوک کا یوں جم جانا ایک غیر معمولی منظر پیش کر رہا ہے۔ شفاف برف کی تہیں، خاموشی سے ٹھہرے پانی اور اطراف میں برف پوش پہاڑ ایک قدرتی حسن کو جنم دے رہے ہیں۔ تاہم یہ دلکش منظر مقامی آبادی کے لیے مشکلات کی ایک طویل فہرست بھی ساتھ لے کر آیا ہے۔ دریا کے منجمد ہونے سے پانی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے جس کے باعث عوام کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔
گانچھے کے دیہات میں بیشتر لوگ گھریلو استعمال، پینے اور مویشیوں کے لیے دریائے شیوک پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ دریا کے جمنے سے نہ صرف پانی تک رسائی محدود ہو گئی ہے بلکہ کئی علاقوں میں پانی مکمل طور پر دستیاب نہیں رہا۔ خواتین اور بزرگ افراد کو دور دراز مقامات سے برف توڑ کر پانی لانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے جو سرد موسم میں صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
سخت سردی نے مویشی پال حضرات کے مسائل میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ جانوروں کے لیے پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ چارے کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔ شدید ٹھنڈ کے باعث مویشی کمزور ہو رہے ہیں اور بیمار پڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو انہیں بڑے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شدید سردی نے تعلیمی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ کئی علاقوں میں اسکولوں میں حاضری کم ہو گئی ہے کیونکہ بچوں کے لیے صبح کے اوقات میں شدید سردی میں اسکول جانا مشکل ہو گیا ہے۔ بعض والدین نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر اپنے بچوں کو گھروں میں ہی رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ اساتذہ کے مطابق اگر سردی کی یہ لہر طویل ہوئی تو تعلیمی سلسلہ مزید متاثر ہونے کا امکان ہے۔
علاج معالجے کی سہولیات بھی اس موسم سے محفوظ نہیں رہیں۔ سردی سے متعلق بیماریوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جن میں نزلہ، کھانسی، بخار اور سانس کے مسائل شامل ہیں۔ دور افتادہ علاقوں کے مریضوں کو بنیادی مراکز صحت تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے کیونکہ برف اور جمے راستوں نے آمدورفت کو محدود کر دیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ممکنہ حد تک عوام کو سہولت فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کچھ علاقوں میں متبادل پانی کے ذرائع فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم عوام کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق کے مطابق مزید عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
بزرگ شہریوں کا کہنا ہے کہ گانچھے میں سردیاں ہمیشہ سخت رہی ہیں لیکن اس سال سردی کی شدت معمول سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ طویل راتیں، مسلسل منفی درجہ حرارت اور دریاؤں کا جمنے جیسی صورتحال نے ماضی کی شدید سردیوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔
موسمی ماہرین کے مطابق آئندہ چند دنوں تک سردی کی یہ لہر برقرار رہنے کا امکان ہے جس کے باعث حالات مزید سخت ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں عوام کو چاہیے کہ وہ گرم لباس کا استعمال کریں، بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں اور غیر ضروری طور پر کھلے مقامات پر جانے سے پرہیز کریں۔
گانچھے میں جاری یہ شدید سردی ایک طرف قدرت کے حسن کو نمایاں کر رہی ہے تو دوسری جانب انسانی زندگی کے لیے ایک بڑا امتحان بھی بن چکی ہے۔ مقامی آبادی امید کر رہی ہے کہ حالات جلد بہتر ہوں گے اور معمولاتِ زندگی ایک بار پھر رواں دواں ہو سکیں گے۔
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment