Featured
- Get link
- X
- Other Apps
ملک بھر میں سرد اور خشک موسم برقرار، میدانی علاقوں میں شدید دھند کا امکان
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ بارہ گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے۔ پہاڑی علاقوں میں سردی کی شدت برقرار رہے گی۔ بعض مقامات پر شدید سردی روزمرہ معمولات کو متاثر کر سکتی ہے۔ عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
پنجاب، بالائی سندھ اور خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں درمیانی سے شدید دھند چھائے رہنے کی توقع ہے۔ صبح اور رات کے اوقات میں دھند زیادہ گہری ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں حد نگاہ کم ہونے کا خدشہ ہے۔ موٹرویز اور اہم شاہراہوں پر سفر کرنے والوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاخیر اور حادثات کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہا۔ بالائی علاقوں میں سردی کی شدت نمایاں رہی۔ ہوا میں نمی کم رہی جس کے باعث رات کے وقت درجہ حرارت میں مزید کمی دیکھی گئی۔ شہروں میں صبح کے اوقات میں ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہیں۔ دیہی علاقوں میں سردی کا احساس زیادہ رہا۔
اس دوران بلوچستان کے ساحلی علاقوں اورماڑہ اور پسنی میں ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارش کی مقدار ایک ملی میٹر رہی۔ بارش کے بعد موسم میں خنکی میں اضافہ ہوا۔ ساحلی علاقوں میں ہوائیں نسبتاً تیز رہیں۔ تاہم بارش کا دائرہ محدود رہا اور دیگر علاقوں تک نہیں پھیلا۔
پنجاب، زیریں خیبرپختونخوا اور بالائی سندھ کے بیشتر اضلاع میں دھند چھائی رہی۔ کئی شہروں میں صبح کے وقت دھند کے باعث نظام زندگی سست رہا۔ اسکولوں اور دفاتر جانے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض علاقوں میں ٹرینیں اور بسیں تاخیر کا شکار رہیں۔ ہوائی اڈوں پر بھی پروازوں کے شیڈول متاثر ہونے کا امکان رہا۔
خطہ پوٹھوہار اور کشمیر میں چند مقامات پر کہرا پڑا۔ پہاڑی علاقوں میں کہرا سردی کے احساس کو بڑھا دیتا ہے۔ سڑکوں پر پھسلن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ڈرائیوروں کو رفتار کم رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ روشنیوں کے مناسب استعمال پر زور دیا گیا ہے۔
آج ریکارڈ کیے گئے کم سے کم درجہ حرارت نے سردی کی شدت کو واضح کر دیا۔ لہہ میں درجہ حرارت منفی پندرہ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ استور اور اسکردو میں منفی دس ڈگری رہا۔ قلات میں منفی آٹھ ڈگری ریکارڈ ہوا۔ گوپس میں پارہ منفی سات ڈگری تک گر گیا۔ ہنزہ اور کالام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی چھ ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ یہ درجہ حرارت معمول سے کم ہیں اور شدید سردی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
شدید سرد موسم کے اثرات انسانی صحت پر بھی پڑتے ہیں۔ بزرگ افراد اور بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ نزلہ، زکام اور سانس کی بیماریاں بڑھ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر حضرات گرم کپڑے پہننے اور غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ گرم مشروبات کا استعمال فائدہ مند رہتا ہے۔ مناسب غذائیت سردی سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے۔
زرعی شعبہ بھی موسم کی اس صورتحال سے متاثر ہوتا ہے۔ دھند اور سردی فصلوں کی نشوونما کو سست کر سکتی ہے۔ کسانوں کو فصلوں کی نگرانی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کو شدید سردی سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ محکمہ زراعت نے بھی احتیاطی ہدایات جاری کی ہیں۔
شہری علاقوں میں گیس اور بجلی کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سرد موسم میں ہیٹر اور دیگر آلات کا استعمال بڑھتا ہے۔ اس وجہ سے توانائی کے نظام پر دباؤ پڑتا ہے۔ عوام کو توانائی کے محتاط استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے۔ غیر ضروری آلات بند رکھنے سے بچت ممکن ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موجودہ سرد اور خشک موسم کا یہ سلسلہ چند دن تک برقرار رہ سکتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں برف باری کے امکانات فی الحال کم ہیں۔ تاہم درجہ حرارت میں مزید کمی خارج از امکان نہیں۔ تازہ موسمی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ عوام کو سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
مجموعی طور پر ملک کے بیشتر حصوں میں سردی کی لہر جاری ہے۔ دھند اور شدید سردی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ احتیاط اور بروقت معلومات ہی اس موسم میں محفوظ رہنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment