Featured
- Get link
- X
- Other Apps
آج کے نوجوان کیوں جلد بیمار ہو رہے ہیں؟ • موبائل دور کے بچوں کی صحت خطرے میں
آج کی زندگی بہت تیز ہو گئی ہے۔
ہر چیز جلدی میں ہو رہی ہے۔
لوگ بھی جلدی میں ہیں۔
لیکن ایک چیز پیچھے رہ گئی ہے۔
وہ ہے صحت۔
آج کے نوجوان موبائل، انٹرنیٹ، فاسٹ فوڈ اور دباؤ کے ساتھ بڑے ہو رہے ہیں۔
بچپن میں کھیل کم ہوا۔
باہر نکلنا کم ہوا۔
زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزرا۔
سہولت بڑھ گئی۔
لیکن جسم کی حرکت کم ہو گئی۔
دل کو سکون ملنا کم ہو گیا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر یہی طرزِ زندگی چلتی رہی تو آنے والے سالوں میں نوجوان پہلے سے زیادہ بیمار ہوں گے۔
اور ان کی زندگیاں بھی مشکل ہوں گی۔
یہ بات ڈرانے کے لیے نہیں ہے۔
یہ سچ ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔
پہلے کے زمانے میں لوگ زیادہ چلتے تھے۔
کھیتوں میں کام کرتے تھے۔
سادا کھانا کھاتے تھے۔
دھوپ میں وقت گزارتے تھے۔
رات کو جلدی سوتے تھے اور پوری نیند لیتے تھے۔
آج کیا ہو رہا ہے؟
صبح اٹھتے ہی موبائل ہاتھ میں۔
پورا دن اسکرین کے سامنے۔
رات دیر تک ویڈیوز اور سوشل میڈیا۔
کھانے میں برگر، پیزا، تلی ہوئی چیزیں۔
اوپر سے میٹھے مشروبات۔
جسم کو آرام نہیں مل رہا۔
دل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دماغ تھک رہا ہے۔
بیماریاں خاموشی سے بڑھ رہی ہیں۔
سب سے زیادہ خطرہ دل کی بیماری کا ہے۔
اب نوجوانوں میں بھی ہارٹ اٹیک ہونے لگے ہیں۔
جو پہلے بوڑھوں میں ہوتا تھا، وہ اب بیس پچیس سال کے لوگوں میں ہو رہا ہے۔
اس کی بڑی وجوہات ہیں:
• ورزش نہ کرنا
• موٹاپا بڑھ جانا
• ہر وقت ٹینشن میں رہنا
• زیادہ نمک اور چکنائی والا کھانا
دوسری بڑی بیماری شوگر ہے۔
چھوٹے بچے تک شوگر کے مریض بن رہے ہیں۔
وجہ یہ ہے کہ میٹھا بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔
چاکلیٹ، کولڈ ڈرنکس، بسکٹ، کیک۔
ہر چیز میں چینی بھری ہوتی ہے۔
جسم آہستہ آہستہ کمزور ہو جاتا ہے۔
پھر شوگر کنٹرول میں نہیں رہتی۔
اس کے بعد کینسر کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
فضائی آلودگی۔
سگریٹ۔
فاسٹ فوڈ۔
پیک شدہ کھانے۔
یہ سب چیزیں جسم کو اندر سے نقصان پہنچاتی ہیں۔
شروع میں پتہ نہیں چلتا۔
لیکن سالوں بعد بڑی بیماری بن جاتی ہیں۔
ذہنی بیماریاں بھی بہت بڑھ گئی ہیں۔
لوگ ہر وقت پریشان رہتے ہیں۔
کچھ نہ کچھ سوچتے رہتے ہیں۔
مستقبل کا خوف۔
نوکری کا دباؤ۔
پیسے کی ٹینشن۔
اوپر سے سوشل میڈیا۔
لوگ دوسروں کی اچھی زندگی دیکھ کر خود کو کم سمجھنے لگتے ہیں۔
یہ دل کو توڑ دیتا ہے۔
اسی سے پیدا ہوتے ہیں:
• ڈپریشن
• بے چینی
• نیند نہ آنا
• اکیلا پن
آج ہزاروں دوست آن لائن ہوتے ہیں۔
لیکن دل کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
ایک اور بڑا مسئلہ ہے جسم کی حرکت نہ ہونا۔
زیادہ تر لوگ دن بھر بیٹھے رہتے ہیں۔
دفتر میں۔
گھر میں۔
موبائل کے ساتھ۔
جسم کو چلنا چاہیے۔
پسینہ آنا چاہیے۔
لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔
اس کا نتیجہ ہوتا ہے:
• وزن تیزی سے بڑھتا ہے
• جسم کمزور ہوتا ہے
• خون کی روانی خراب ہوتی ہے
پھر تھوڑا سا چلنے پر سانس پھولنے لگتی ہے۔
یہ سب مل کر زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
اچانک دل کا بند ہو جانا۔
لمبی بیماریاں۔
کینسر جیسی تکلیف دہ تکلیفیں۔
ذہنی ٹوٹ پھوٹ۔
یہ سب ہماری غلط عادتوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ سب کچھ بدلا جا سکتا ہے۔
اگر آپ آج سے فیصلہ کر لیں۔
بڑی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔
چھوٹی عادتیں کافی ہیں۔
روزانہ کم از کم تیس منٹ تیز چہل قدمی کریں۔
اگر پارک نہ ہو تو گلی میں چل لیں۔
کھانے میں سادہ چیزیں رکھیں:
• سبزیاں
• دال
• پھل
• روٹی
• پانی زیادہ
بازار کا کھانا کم کریں۔
تلی ہوئی چیزیں کم کریں۔
میٹھا آہستہ آہستہ چھوڑیں۔
موبائل سے روز تھوڑا وقفہ لیں۔
سونے سے ایک گھنٹہ پہلے فون بند کر دیں۔
سات سے آٹھ گھنٹے نیند ضرور لیں۔
اپنے دل کی بات کسی سے کریں۔
دوست سے۔
گھر والوں سے۔
دل ہلکا ہوتا ہے تو دماغ بھی سکون میں آتا ہے۔
خاموش بیٹھ کر گہری سانس لیں۔
یہ ذہنی دباؤ کم کرتی ہے۔
یہ سب کام آسان ہیں۔
لیکن اثر بہت بڑا ہے۔
تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جو لوگ روز چلتے ہیں ان میں دل کی بیماری کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے۔
جو سادہ اور صحت مند کھانا کھاتے ہیں وہ شوگر سے بچتے ہیں۔
جو پوری نیند لیتے ہیں وہ کم بیمار ہوتے ہیں۔
یہ کوئی مشکل علم نہیں ہے۔
بس اس پر عمل کرنا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم صحت کو اہمیت نہیں دیتے۔
ہم کہتے ہیں:
ابھی وقت ہے۔
بعد میں خیال رکھیں گے۔
ابھی جوان ہیں۔
لیکن بیماری وقت نہیں دیکھتی۔
وہ آہستہ آہستہ بڑھتی ہے۔
اور جب سامنے آتی ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
یہ مضمون ڈرانے کے لیے نہیں لکھا گیا۔
یہ سمجھانے کے لیے ہے۔
آج کی نسل کے پاس سہولت ہے۔
علم ہے۔
ٹیکنالوجی ہے۔
اگر اس کے ساتھ صحت کا خیال بھی رکھ لیں تو یہ دنیا کی سب سے مضبوط نسل بن سکتی ہے۔
لیکن اگر لاپرواہی رہی تو یہی سہولت بیماری بن جائے گی۔
آپ کا جسم کوئی مشین نہیں ہے۔
یہ اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے۔
آپ جو آج کریں گے وہی کل نظر آئے گا۔
اچھی عادتیں لمبی زندگی دیتی ہیں۔
غلط عادتیں آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہیں۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
آج سنبھلیں۔
کل محفوظ رہیں۔
یہی اس مضمون کا اصل پیغام ہے۔
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
پاکستان کے 10 سالہ نابینا بچے نے انڈونیشیا میں ہونے والا عالمی قرأت مقابلہ جیت لیا۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے لیے جدید ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment